بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، جب کہ رشتے دار پر صدقہ کرنا دو ہے: صدقہ اور صلہ رحمی۔»


یہ حدیث حضرت سلمان بن عامر الضَّبِی رضی اللہ عنہ سے درج ذیل کتب حدیث میں مروی ہے:
مسند احمد (حدیث نمبر: 16227)، سنن ترمذی (حدیث نمبر: 658)، سنن نسائی (حدیث نمبر: 2582) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 1844)۔ اور الفاظ سنن ترمذى کے ہیں۔
نیز یہ حدیث "صحیح الجامع" (حدیث نمبر: 3858) اور "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر: 892) میں بھی درج ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو خیر وبھلائی کے بے شمار راستوں کی طرف راغب فرمایا ہے، جن میں سے ایک افضل ترین راستہ مال خرچ کرنا ہے۔ اسی ضمن میں آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی غیر رشتے دار پر صدقہ کرے تو اسے ایک اجر ملے گا، یعنی صرف صدقے کا ثواب؛ لیکن اگر وہی صدقہ کسی رشتے دار کو دے تو اسے دو اجر ملیں گے: ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
صدقہ کرنے کی ایک صورت تحائف دینا بھی ہے، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنے مال دار رشتے داروں کو تحائف دے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور نرمی ومحبت کا باعث بننے والے ہر طریقے سے نیکی کرتا رہے۔ یاد رہے کہ صلہ رحمی کا اصل ہدف محض مال ودولت خرچ کرنا نہیں ہے، بلکہ ہر وہ عمل صلہ رحمی کے زمرے میں آتا ہے، جس سے محبت کا اظہار ہوتا ہے اور رشتے داری مضبوط ہوتی ہے۔
اس حدیث میں وارد لفظِ "صدقہ" کا اطلاق نفلی صدقات اور فرض زکات دونوں پر ہوتا ہے۔ چناں چہ زکات یا صدقہ اپنے رشتہ داروں کو دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ ان افراد میں شامل نہ ہوں جن کا نفقہ شرعًا اس شخص پر واجب ہے۔ جیسے: والدین (گرچہ اوپر کے ہوں، جن سے مراد دادا، دادى، نانا ، نانی ہیں) ۔ اور اولاد (گرچہ نیچے کے ہوں، جن سے مراد پوتے، پوتیاں ، نواسے، نواسیاں ہیں)۔ نیز وہ تمام افراد جن کی کفالت شریعت نے اس پر لازم کی ہے۔ الا یہ کہ ضرورت ومحتاجی کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے قریبی رشتہ دار کو پہلے دیا جائے گا، اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسروں کو۔
حدیث کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ قریبی رشتے دار پر صدقہ کرنا دُور والوں کے مقابلے میں افضل ہے۔ البتہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ قریبی رشتے دار ہی کو صدقہ دینا افضل ہو۔ بعض اوقات قریبی رشتے دار کے برعکس کوئی دُور کا مسکین رشتے دار زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے؛ ایسی صورت میں اسی پر صدقہ کرنا افضل ہے، کیوں کہ اس کا نفع زیادہ اور فوری ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔