«اے ابوبکر! تین باتیں ہیں، جو بالیقین حق ہیں: جو بندہ کسی ظلم کا نشانہ بنے اور وہ اللہ عز وجل کی رضا کے لیے اس سے چشم پوشی کرلے (تو) اللہ تعالیٰ اُس درگزر کے بدلے میں اُسے عزت بخش کر اُس کی مدد فرما دیتا ہے۔ جو شخص صلہ رحمی کی نیت سے جُود وسخا کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مال ودولت میں فراوانی عطا فرماتا ہے۔ جو شخص محض مال بڑھانے کی نیت سے (لوگوں سے) مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے فقر و محتاجی میں بڑھا دیتا ہے »۔
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے درج ذیل کتب حدیث میں مروی ہے:
مسند احمد (حدیث نمبر:9624)، السنن الکبریٰ للبیہقی (حدیث نمبر: 21096) اور المعجم الاوسط للطبرانی (حدیث نمبر: 7239) ۔
نیز یہ حدیث صحیح الجامع (حدیث نمبر: 5646) اور سلسلۃ الاحاديث الصحیحہ (حدیث نمبر: 2231) میں بھی درج ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
وہ اعمال جنھیں اللہ تعالیٰ بے حد پسند فرماتا ہے اور جن پر اپنے خزانۂ رحمت سے وافر انعام واجر عطا فرماتا ہے: ظلم وزیادتی پر در گزر سے کام لینا، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنی ضرورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور توکل رکھنا ہے۔
اس مبارک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تین ایسی عظیم صفات کی تعلیم دی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اور اُن پر وعدۂ اجروثواب بھی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے ابوبکر! تین باتیں ہیں، جو بالیقین حق ہیں":
1. جو شخص ظلم کا شکار ہو، مگر اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے سے گریز کرے اور محض اللہ کی رضا کے لیے غصے کو پی جائے اور معاف کر دے تو اللہ ربّ العزت اسے دنیا وآخرت میں عزت اور غلبے سے نوازتا ہے۔
2. جو شخص صلہ رحمی کی نیت سے بھلائی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کرتا ہے تو اس کے مال میں برکت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے مزید عطا فرماتا ہے۔ اس بات کى تائید اللہ تعالى کے اس فرمان سے ہوتی ہے : ((اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور دیتا ہے)) سبأ:39 اور حديث رسول میں ہے:"صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا" صحيح مسلم (حدیث نمبر 2588)۔
3. حقیقی ضرورت یا مجبوری کے بغیر محض مال ودولت میں زیادتی کی لالچ کرتے ہوئے لوگوں سے مانگنے کا راستہ اختیار کرنے والے شخص کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے مال سے برکت اٹھا لی جاتی ہے، وہ حقیقی معنوں میں محتاج بن جاتا ہے اور فقر وتنگدستی اس طرح اسکے تعاقب میں لگ جاتے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت بھوک ومحتاجی ناچتی رہتی ہے۔
چناں چہ یہ حدیثِ مبارکہ حسنِ اخلاق کی اعلیٰ صفات اپنانے کی ترغیب دیتی ہے، یعنی دوسروں کو معاف کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، جو برکت کا سبب بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ حدیث محض لالچ اور زیادہ مال حاصل کرنے کی نیت سے لوگوں سے مانگنے کا رویہ اختیار کرنے پرسخت تنبیہ بھی کرتی ہے، کیوں کہ ایسا طرزِ عمل ذلت ومحتاجی کا دروازہ کھولتا ہے۔