بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر –اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ فرمایا– دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر؛ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں، نہ بالوں کو سمیٹیں»۔ 


یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری (حدیث نمبر: 812) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر: 490) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نماز کا رُتبہ بہت عظیم اور اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس کے لیے شرائط، ارکان، واجبات اور مستحبات مقرر کیے گئے ہیں۔ نماز کے اہم ارکان میں سے ایک رکن سجدہ ہے، جس کی ادائیگی کا طریقہ آپ ﷺ نے بڑی وضاحت سے یوں بیان فرمایا ہے: "مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے"، یعنی سات اعضا پر۔ مراد یہ ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جب میں سجدہ کروں تو ان ساتوں اعضاء کو زمین پر رکھوں۔
حدیث میں یہ حکم فرضیت پر دلالت کر رہا ہے، یعنی نماز اس وقت تک درست نہیں ہوتی، جب تک انسان ان ساتوں اعضا کو سجدہ کرتے وقت زمین پر نہیں ٹکاتا۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو تو اس میں رخصت دی گئی ہے۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان اعضا کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "پیشانی اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ فرمایا"، تاکہ واضح ہو جائے کہ پیشانی اور ناک کو ایک ہی عضو شمار کیا جائے گا، کیوں کہ پیشانی کی ہڈی سے ناک کی ہڈی نکلى ہوئى ہے اور اسى میں ضم ہے۔
پھر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کو ذکر کیا۔یوں یہ سات اعضا مکمل ہوئے: پیشانى ناك سمیت ایک عضو ہے۔دونوں ہاتھ یعنی دونوں ہتھیلیاں انگلیوں سمیت دو عضو ہیں۔دونوں گھٹنے دو عضو ہیں۔دونوں پاؤں کے کنارے یعنى ان کى اگلیاں دو عضو ہیں۔
پگڑی کے گول حصے (کَورِ عمامہ) پر سجدہ کرنے کی بابت علما میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم افضل واکمل طریقہ یہی ہے کہ پیشانی کو براہِ راست زمین پر ٹیکا جائے، بالخصوص جب پگڑی موٹی ہو ۔
پھر نبی کریم ﷺ نے کپڑے اور بالوں کو سمیٹنے سے منع فرمایا۔کپڑوں کوسمیٹنےکے معنی ہیں: رکوع و سجود میں کپڑوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر اکٹھا کرلینا۔ بالوں کو سمیٹنے کے معنی ہیں: سر کے بالوں کو اس طرح باندھ لینا اور گُتھ لینا کہ وہ سجدے کے وقت زمین پر نہ گریں اور گرد وغبار لگنے سے بچ جائیں۔
اکثر علما نے کپڑوں کو سمیٹنے اور بالوں کو باندھنے کی ممانعت کو مکروہ قرار دیا ہے ۔
اس ممانعت کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کپڑوں یا بالوں کو زمین سے دور رکھتا ہے، گویا وہ تواضع کی بجائے حالتِ تکبر میں سجدہ کر رہا ہے، کیوں کہ سر کے بالوں کو اس کے ساتھ سجدہ ریز ہونا چاہیے۔
البتہ اگر کوئی شخص اپنے کپڑے اس لیے سمیٹتا ہے کہ اس کا ستر نہ کھلے تو وہ اس ممانعت میں شامل نہیں ہوگا، کیوں کہ ستر ڈھانپنا تو واجب ہے۔
بال باندھنے کی یہ ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے، کیوں کہ عورتوں کے لیے چوٹیاں کھولنا باعثِ مشقت ہے اور بالوں کا کھلا رہنا ان کے لیے زینت کے منافی بھی ہے۔
جمہور اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ نماز سے پہلے اورنماز کے دوران ، بالوں کو گُتھ کر باندھنا اور کپڑوں کو سمیٹنا ، یہ دونوں امور ہر اُس شخص کے لیے ممنوع ہیں جو نماز ادا کر رہا ہو، خواه اس نے یہ کام نماز کى وجہ سے نہ کیا ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔