بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«ایک دن نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، پھر اس پر اپنى انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم! تم مجھے کیسے عاجز کرسکتے ہو، حالاں کہ میں نے تجھے ایسی ہی ایک حقیر سی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے سراپا درست اور متوازن ومکمل شکل وصورت عطا کی، تو تم دو دھاری چادریں اوڑھ کر (اکڑ کر) چلنے لگے اور زمین تمھارے قدموں کی چاپ سننے لگی! پھر تم نے (مال) جمع کرنا شروع کیا اور (بخل کرتے ہوئے اسے) روک کر رکھنے لگے، یہاں تک کہ جب روح نکل کر ہنسلیوں کی ہڈی تک پہنچ گئی تو تم کہنے لگے: میں (یہ چیز) صدقہ کرتا ہوں، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟!»


یہ حدیث حضرت بُسْر بن جَحَّاش القُرَشي رضی اللہ عنہ سے درج ذیل کتب حدیث میں مروی ہے:
مسند احمد (حدیث نمبر: 17842)، ابن ماجہ (حدیث نمبر: 2707)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر: 3855) اور المعجم الکبیر للطبرانی (حدیث نمبر: 1194) [۔یہاں مذکور الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز یہ حدیث صحیح الجامع (حدیث نمبر: 8144) اور سلسلۃ الاحاديث الصحیحہ (حدیث نمبر: 1143) میں بھی درج ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


انسان ایک کمزور اور ناپائیدار مخلوق ہے، جس کی زندگی کا دامن خواہ کتنا ہی دراز ہو، مگر ہر سانس اسے ایک مقررہ مدت اور منزل کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا دانش مندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے شب وروز کو نیک اعمال سے معمور کرے اور ان اعمال میں سب سے زیادہ اُمید بخش عمل "صدقہ" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول وعمل سے یہ اہم نکتہ اپنی امت کو سکھایا ہے۔
آپ ﷺ بہترین معلم تھےاور آپ کی تعلیم کا خاص انداز یہ تھا کہ معانی کو واضح اور قریب کرنے کے لیے بہترین مثالیں بیان فرمایا کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیم وتربیت کا حسین نمونہ یہ حدیث شریف بھی ہے، جس میں آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوڑا سا لعابِ دہن ڈالا، پھر اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اس کے حقیر پن اور بے وقعتی کو واضح کیا اور یہ عیاں کیا کہ ابنِ آدم کی حیثیت بھی اسی قدر ناچیز ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اللہ رب العزت کا فرمان نقل فرمایا: "ابنِ آدم! تم مجھے کیسے عاجز کر سکتے ہو؟!" یہ سوال دراصل استنکار اور تنبیہ ہے، یعنی انسان کی کمزور حالت اور بے حیثیتی کو واضح کرنا مقصود ہے کہ تمھیں میں نے محض ایک ایسے قطرے سے پیدا کیا ہے، جو اپنی جسامت، کمزوری اور بے قدری میں اس تھوک جیسا ہے۔
تو پھر کیسے تم جیسے کمزور بشر کو زیب دیتا ہے کہ میرے سامنے تکبر کا مظاہرہ كرو؟! یا یہ گمان باندهوکہ تم مجھے عاجز کر سکتے ہو یا میں تمھیں پکڑ نہیں سکتا اور تمھارا محاسبہ نہیں ہوگا؟!
پھر جب تمہارى تخلیق پورى ہوئى اور تمہارى خلقت سنور کر معتدل صورت میں ظاہر ہوئی تو تم دو خوبصورت چادریں اوڑھ کر تفاخر کے ساتھ زمین پر ایسے چلنے لگے کہ زمین تمھارے بھاری قدموں کی چاپ سے گونجنے لگی۔
تم نے اپنی تخلیق کے آغاز کوبھلا دیا اور اپنی اصل پر کبھی نگاہ نہ ڈالی۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے اَن گنت احسانات وانعامات کو نظرانداز کر دیا اور دنیا کے مال وزر کو سمیٹنے میں ایسے مگن ہوئے کہ دوسروں کے حقوق سلب کرنے شروع کر دیے۔
یہاں تک کہ جب موت نے دستک دی، روح تمھارے سینے سے چڑھتی ہوئی ہنسلی کی ہڈی تک آ پہنچی، دم گھٹنے لگا اور حلق تک جان اٹک گئی تو اس وقت تم کہنے لگے: "اب میں صدقہ کرتا ہوں!" مگر صدقہ کرنے کا اب وقت کہاں رہا؟! وقت گزر چکا اور عمل کا دفتر بند ہو چکا۔
اس بات کى تصدیق وتائید قرآن مجید کى ان آیات سے ہوتی ہے: ((یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے، شاید میں وہ نیک عمل کر سکوں جو میں پیچھے چھوڑ آیا تھا)) المؤمنون: 100-99 ، لہٰذا اے انسان! نیکیوں کی طرف دوڑو اور صالح اعمال میں پہل کرو، کیوں کہ کسی نفس کو خبر نہیں کہ اس کی مہلت کب ختم ہونے والی ہے!


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔