بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے» یعنی فجر اور عصر کی نمازیں۔


یہ حدیث عمارہ بن رُوَیبہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم (حدیث نمبر: 634) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نماز کو دینِ اسلام میں بڑی اہمیت اور امتیازی مقام حاصل ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ان لوگوں کو بڑے مقام ومرتبہ اور بہت زیادہ اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے، جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ انھی احادیث میں سے ایک یہ حدیث ہے جس میں یہ آیا ہے کہ جو شخص طلوعِ آفتاب سے پہلے یعنی نمازِ فجر اور غروبِ آفتاب سے پہلے یعنی نمازِ عصر کی پابندی سے ادائیگی کرتا ہے، وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ لہذا تم ان دونوں نمازوں پر مداومت برتو اور ان کى نگہداشت کرو۔
علما کے نزدیک یہ حدیث نفى دخول پر محمول ہے، چناں چہ ایسا شخص سرے سے جہنم میں داخل ہی نہیں ہوگا، اور اگر کسی کو جہنم میں بھیجا گیا تو وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا، یا اس سے مراد اکثر حالات مراد ہیں، چناں چہ ان دونوں نمازوں کی پابندی کرنے والوں کی عمومی حالت یہی رہتى ہے کہ وہ جنہم میں لے جانے والى باتوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔
ان دونوں نمازوں (فجر اور عصر) کو خاص طور پر ذکر کرنے کا مقصد ان کی بیش بہا فضیلت بیان کرنا اور اہتمام کے ساتھ ان کی ادائیگی کی ترغیب دینا ہے، کیوں کہ یہ دونوں نمازیں ایسے اوقات میں ادا کی جاتی ہیں، جن میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور یہی فرشتے بندوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح فجر اور عصر کے اوقات ایسے ہیں، جن میں ان نمازوں کی پابندی مشکل محسوس ہوتی ہے۔ فجر کا وقت نیند سے لطف اندوز ہونے کا ہے، جب کہ عصر کے وقت کاروباری مشاغل، لین دین اور خرید وفروخت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
ان دونوں نمازوں (فجر وعصر) کی پابندی وہی شخص کر پاتا ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے؛ یعنی وہ بندہ جس کا ایمان پختہ اور دین کامل ہو۔ جو شخص ان دو نمازوں کی پابندی کر لیتا ہے، وہ دیگر نمازوں کی ادائیگی کا زیادہ اہتمام کرنے والا بن جاتا ہے۔ 


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔