«جس کو کوئی چیز دی جائے، پھر وہ بھی (جوابی تحفہ دینے کے لیے کچھ موجود) پائے تو چاہیے کہ وہ اس کا بدلہ دے۔ اور اگر جوابی تحفے کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے کیوں کہ جس نے تعریف کی تو گویا اس نے شکریہ ادا کردیا۔ اور جس نے (نعمت کو) چھپایا تو اس نے کفرانِ نعمت کیا۔ اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔»
یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مندرجِ ذیل کتبِ احادیث میں مروی ہے:
سنن ابوداود (حدیث نمبر 4813)، سنن الترمذی (حدیث نمبر 2034) اور الادب المفرد از امام بخاری (حدیث نمبر 215) ۔ اور مذکورہ الفاظ سنن ترمذى کے ہیں۔
مسند احمد (حدیث نمبر 24593) میں یہ حدیث ان سےملتے جلتےالفاظ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو: صحیح الجامع (حدیث نمبر 6056) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 617)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
وہ عالی اخلاق جن کی ترغیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دی اور انھیں یہ اخلاقی آداب سکھلائے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ احسان کا بدلہ احسان کی صورت میں شکریے اور قدردانی کے جذبات کے ساتھ دیا جائے اور ناشکری سے کلی اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح اپنے محسن کے استحقاق کے مطابق اس کی فضیلت کا اعتراف کیا جائے اور اس کی تعریف کی جائے، چنانچہ جس کسی کو عطیے میں کوئی تحفہ یا اس جیسی کوئی چیز دی جائے اور وہ خود مالی وسعت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ تحفہ دینے والے کو ویسا یا اس سے بہتر تحفہ دے، تاکہ دینے والے کے عمل کا پورا پورا بدلہ ہوجائے۔ اور اگر وہ پورا پورا بدلہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، یا اس کے پاس کم درجہ تحفہ دینے کی بھی طاقت نہ ہو تو کم سے کم تحفہ دینے والی کی اچھے الفاظ میں تعریف کرے، اس کے اس عمل کو سراہے، اس کے تحفے کے تشکر اور اس کے مقام وفضل کے اعتراف کے طور پر اس کے لیے دعائے خیر کرے۔
کیوں کہ جس نے اپنے محسن کی تعریف کی تو اس نے عطیہ دینے والے کا شکریہ ادا کردیا۔ اور جس نے بایں معنی کتمان سے کام لیا کہ اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، اس کی مدح وستائش کرتے ہوئے اور اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے اسے پورا پورا بدلہ نہ دیا تو اس نے ایسا کر کے ’’کفر‘‘ (کفرانِ نعمت) سے کام لیا۔
یاد رہے کہ یہاں ’’کفر‘‘ سے مراد کفرانِ نعمت، یعنی نعمت کی ناشکری ہے، نہ کہ وہ کفر جو ایمان کا متضاد ہے۔
اور جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ’’جس نے ایسی چیز سے زیبائش کا کام لیا جو اسے نہیں دی گئی‘‘کا تعلق ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے سامنے ایسے اوصاف اور فضائل ظاہر کرے جو حقیقت کے برخلاف ہوں، مثلاً: یہ ظاہر کرے کہ وہ عالم ہے، یا صاحب ثروت ہے، یا بااثر شخصیت کا مالک ہے۔ مقصد یہ ہو کہ لوگ اس کی مدح سرائی کریں تعریف کے ڈونگرے برسائیں۔ تو ایسا طرزِ عمل سخت قابلِ مذمت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ’’دو جھوٹے کپڑے پہننے والے‘‘ سے تشبیہ دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ایسے دو کپڑے پہن زیبائش اختیار کرتا ہے جو اس کے اپنے نہیں ہیں، مگر ظاہر یہی کرتا ہے کہ وہ اس کے اپنے ہیں۔
یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ’’دو کپڑوں‘‘ کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کیوں کہ دو کپڑے پورے جسم کو ڈھانپ لیتے ہیں، چنانچہ یہ دو کپڑے پہننے والے شخص کی حالت بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ سر تا پا جھوٹ اور فریب میں ڈوبا ہوا ہے۔
علاوہ ازیں اس حدیث میں ہے کہ مالی وسعت رکھنے والے کو اپنے محسن کے احسان کا پورا پورا بدلہ دینا چاہیے۔ ریاکاری ودکھلاوے اور جھوٹی ومصنوعی زیب وزینت کی مذمت کی گئی ہے۔ سچائی اور انکساری اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ بندہ اس نعمت کے ساتھ زیبائش وآرائش اختیار کرے جو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہو، نہ کہ کسی جھوٹے ادّعا اور فریب کاری کے ذریعے۔