جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ اور تُو دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔»


اسے بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امام بخاری (صحیح بخاری، حدیث نمبر 5090) اور امام مسلم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1466) نے روایت کیا ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اسلام نے نکاح کی ترغیب دی ہے، اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے اور اچھی بیوی کے انتخاب میں راہنمائی بھی فرمائی ہے۔ نکاح کے معاملے میں لوگوں کے مقاصد مختلف اور رغبت کی وجہ ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہے۔ لیکن ان کا عمومی اور غالب رجحان چار مقاصد کی طرف ہوتا ہے جن کی وجہ سے عورت کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے۔ جو یہ ہیں: مال ودولت: یعنی عورت مال دار ہو، تاکہ نہ صرف عورت کے نان ونفقے کی ذمہ داری کا بوجھ مرد کے کندھوں سے ہلکا ہو، بلکہ شوہر اپنی بیوی کے مال سے مستفید بھی ہو۔ مال کو اس لیے سب سے پہلے ذکر کیا گیا ہے کیوں کہ عام طور پر دلوں پر مال ہی کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے۔ حسب: یعنی خاتون کے آباء واجداد، قوم وقبیلے اور رشتہ داروں کا شرف ومقام۔ بلکہ اس جیسی وہ تمام چیزیں جن پر فخر کیا جاتا ہے۔ حسن وجمال: تاکہ عورت کے حسین چہرے اور متناسب جسم پر فخر کیا جائےچناں چہ اس کى بنا پر عورت سے نكاح كيا جائے۔ حسن وجمال کی محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے اور نکاح میں عام طور پر مطمحِ نظر یہی حسن وجمال ہوتا ہے۔ دین: یعنی وہ عورت دین دار ہو اور حسن اخلاق اور راست بازی سے آراستہ ہو۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کامیابی کے لیے دین دار خاتون تلاش کرنے کی ترغیب بایں معنی دی کہ انتخاب میں دین ہی کو بنیاد بنایا جائے۔ لفظ ’’ظفر‘‘ (کامیابی وکامرانی) کسی قیمتی ونفیس اور انتہائی مطلوب چیز کے لیے ہی بولا جاتا ہے، چنانچہ دین دار بیوی کو پاکر انسان دونوں جہانوں کے فوائد سمیٹ لیتا اور دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کرلیتا ہے۔
چنانچہ انسان نکاح کا ارادہ کرے تو سب سے بڑھ کر جس چیز کو اہمیت دینی چاہیے، وہ ’’دین‘‘ ہے۔ اگر ہونے والی بیوی میں دین داری کے ساتھ دیگر اوصاف، یا ان میں سے کچھ موجود ہوئے تو یہ نور علی نور ہے۔ لیکن اگر عورت مال دار یا حسن وجمال والی، یا خاندانی شرف وعزت کی حامل ہو، مگر دین دار نہ ہو تو اسے چھوڑدینا ہی زیادہ بہتر ہے۔
حدیث کے الفاظ ’’تربت یداک‘‘ یعنی تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، یہ فقر واحتیاج سے کنایہ ہیں۔ اور یہاں دعا کے معنی میں خبر ہے، لیکن اس سے اس کا حقیقی مفہوم مراد نہیں لیا جاتا۔ یہ عرب کے محاورات میں سے ہے، لیکن اس کے حقیقی معنی ان کا مقصود نہیں ہوتے، جیساکہ کہا گیا ہے ؎
’’کیا تُو دیکھتا نہیں کہ عرب تعجب کے وقت کہتے ہیں: اللہ اسے ہلاک کرے۔ حالانکہ وہ ایسا نفرت کی وجہ سے نہیں کہتے۔‘‘
لہٰذا اس حدیث میں مقصود دین دار عورت کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی وکامرانی سمیٹنے کی ترغیب دلانا ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔