جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«دو آدمی حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ سے صدقے میں سے کچھ مانگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی۔ آپ نے ہمیں مضبوط وتوانا دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دوں، لیکن اس میں مال دار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقت وَر کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو!»


یہ حدیث دو صحابیوں سے اللہ ان سے راضى ہوان کتب میں مروی ہے:
مسند احمد (حدیث نمبر 17972)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1633) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2598) ۔الفاظ سنن ابو داود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو: صحيح الجامع ( حدیث نمبر 1419) اورصحيح ابوداود ( حدیث نمبر 1443)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


زکاۃ کے مخصوص ومعین مصارف ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا ہے۔ اسی طرح سنتِ مطہرہ نے واضح فرمایا ہے کہ لوگوں کی کچھ اقسام ایسی ہیں جن کے لیے زکاۃ لینا جائز نہیں ہے۔ ان میں مال دار افراداور وہ لوگ بھی ہیں جو کمانے کی طاقت وصلاحیت رکھتے ہوں، چنانچہ دو افراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ آپ زکاۃ کی تقسیم میں مصروف تھے۔ ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ انھیں بھی زکاۃ میں سے کچھ دیا جائے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں بنظر غائر دیکھنے لگے اور سر سے لے کر پاؤں تک دقیق نظری کے ساتھ ان کا جائزہ لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ دونوں ہی جسمانی طور پر قوی، طاقت وَر اور مضبوط جثے کے مالک ہیں۔ ان کی جسمانی قوت کے آثار ان پر ظاہر تھے اور یہ بھی نظر آرہا تھا کہ ان میں کام کرنے اور اپنی روزی کمانے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں زکاۃ لینے اور نہ لینے کا اختیار دیا کہ اگر وہ واقعی ضرورت مند ہیں تو زکاۃ لے سکتے ہیں۔ اور معاملہ ان کے ضمیر پر چھوڑدیا۔ اور اگر وہ زکاۃ کے مستحق نہ ہوئے تو بغیر استحقاق کے زکاۃ لینے کا گناہ ان پر ہوگا۔
یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کرنے کی بجائے انھیں حکم شرعی سے آگاہ فرمایا کہ زکاۃ میں مال دار کا کوئی حق نہیں ہے۔ مال دار وہ شخص ہے جو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سال بھر کی ضروریات پوری کرنے کا سامان رکھتا ہو۔ اسی طرح زکاۃ میں کسی ایسے شخص کا بھی کوئی حق نہیں ہے جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو۔ پہلا شخص اپنے مال کی بدولت زکاۃ سے مستغنی ہے اور دوسرا اپنی جسمانی قوت اور کمانے کی صلاحیت کے سبب۔ یاد رہے کہ ان دونوں اوصاف کا بیک وقت موجود ہونا ضروری ہے، چنانچہ اگر کسی شخص میں دونوں میں سے ایک وصف نہ ہو تو اسے زکاۃ دینا جائز ہوگا کیوں کہ زکاۃ مال داراور قوی اور کمانے کی صلاحیت رکھنے والے کے لیے حرام ہے۔
اس حدیث میں نبوی تربیت کا ذکر ہے کہ مسلمان کو عزتِ نفس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اسے لینے اور مانگنے کی بجائے خرچ کرنے والا اور دینے والا ہونا چاہیے۔ اسی طرح وہ محنت کرے اور کمائے، سستی اور کاہلی سے بچے۔ یہ راہنمائی بھی ملتی ہے کہ زکاۃ تقسیم کرنے والا شخص باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد زیادہ مستحق افراد کو ترجیح دے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔