بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«بے شک جس نے جمعہ کے روز سورۃ الکہف پڑھی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ دو جمعوں کے درمیان ایک نور روشن فرمادیتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت سعید الخدری رضی اللہ عنہ مندرجِ ذیل کتابوں میں ہے:
مستدرک حاکم (حدیث نمبر 3392)، السنن الکبریٰ از بیہقی (حدیث نمبر 5996)، الدعوات الکبیر از بیہقی (حدیث نمبر 526)۔ مذکورہ الفاظ حاکم اور بیہقی کے ہیں۔
اسی طرح یہ حدیث سنن دارمی (حدیث نمبر 3450) اور شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 2220) میں بھی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کےاور البیت العتیق (خانہ کعبہ) کے درمیان ایک نور روشن فرمادیتا ہے۔‘‘
علاوہ ازیں السنن الکبریٰ از نسائی (حدیث نمبر 10722) اور عمل الیوم واللیلۃ از نسائی (حدیث نمبر 952) میں بھی یہ روایت موجود ہے، لیکن اس میں جمعہ کے دن کی تقیید نہیں ہے۔ اس کے الفاظ یوں ہیں:
’’جس نے سورۃ الکہف کو ویسے پڑھا جیسے وہ نازل کی گئی ہے تو وہ اس کے لئے اس کی جگہ سے لے کر مکہ تک نور بن جائے گی۔ جس نے سورۃ الکہف کی آخری دس آیات تلاوت کیں تو اگر دجال کا ظہور ہوجائے تو وہ اس پر تسلط نہیں پاسکے گا۔‘‘
نیز ملاحظہ ہو: صحیح الجامع (حدیث نمبر 6470، 6471) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 736، 1473) ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


قرآنِ کریم کی تلات کی عمومی طور پر بہت بڑی فضلیت ہے، لیکن بعض سورتوں کو مزید فضیلت حاصل ہے۔ انھی سورتوں میں سے ایک سورۃ الکہف ہے۔ یہ مکی سورتوں میں سے ہے۔ اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس آغاز میں اصحابِ کہف کا ذکر ہے۔
اس سورت کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، انھی احادیث میں سے ایک پیش نظر حدیث ہے جس میں ذکر ہے کہ جو اسے جمعہ کے روز پڑھے، خواہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ یعنی اس دن طلوعِ شمس سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔ یا امام شافعی کے قول کے مطابق جمعہ کی رات کو بھی اگر پڑھے تو اسے عظیم الشان ثواب حاصل ہوگا اور وہ یہ کہ اس کے لیے دو جمعوں کے مابین ایک نور روشن کردیا جائے گا۔ یہ ایسا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے دل، یا اس کی نگاہ، یا اس کی بصیرت، یا اس کے تمام احوال میں ڈال دیتا ہے، چنانچہ یہ نور اسے درست راہ دکھلانے والا اور گناہوں سے روکنے والا ہوتا ہے۔
یہ نور بسااوقات حسی بھی ہوتا ہے، چنانچہ یہ اس کے چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور اسے پُررونق، جاذب اور حسین وجمیل بنادیتا ہے۔اوریہ دنیا میں ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ نور اس کے اعمال کے ساتھ آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے لیے اس کی قبر میں روشنی کا باعث بنتا ہے۔اور اس کے اٹھائے جانے کے دن جب کہ تمام مخلوقات کو اکٹھا کیا جائے گا اس کے لئے نور بن جائے گى، اور یہ آخرت میں ہوگا۔
علاوہ ازیں سورۃ الکہف کا اثر اور اجر وثواب پورا ہفتہ جاری رہتا ہے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے۔‘‘
وہ تلاوت جس پر یہ عظیم الشان ثواب ملتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ زبان سے آیات کو پڑھا جائے، کم سے کم اس کے دونوں ہونٹ حرکت کریں اور وہ اپنی تلاوت خود سن سکے۔ اور نہایت اچھى بات یہ ہے کہ دورانِ تلاوت دل حاضر ہو، معانی پر غور وفکر کیا جائے اور اس سورت کی راہنمائی کو دل وجان اور عمل سے قبول کیا جائے، یعنی اس کی ہدایات کو عمل کا حصہ بنایا جائے۔
یاد رہے کہ اسے خود پڑھنے کی بجائے محض کسی سے تلاوت سن لینا کافی نہیں ہوگا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔