«قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل جڑے رہیں ، اور جب تمہارے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو اس کو پڑھنا بند کردو۔»
یہ حدیث بروایت حضرت جندب رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5060) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2667) میں مروى ہے۔ اور مذکورہ الفاظ صحیح بخارى کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
بے شک قرآنِ کریم وہ راہ دکھلاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے، جب کہ ایک مسلمان کے لیے قرآن کی ہدایات کی ضرورت اس کے کھانے پینے سے بھی بڑھ کر ہے۔
قرآنِ کریم کی ہدایات علی وجہ البصیرہ سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ معاون چیزوں میں سے ایک دلجمعی اور تدبر کے ساتھ اس کی تلاوت ہے، خواہ تلاوت کی یہ کیفیت انفرادی صورت میں ہو، یا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی شکل میں ہو۔ وہ سبھی قرآن کریم پڑھیں اور الفت ومحبت کے ماحول میں اس پر غور و فکر کریں۔
پس جب تک اُن کے دل باہم جُڑے رہیں، اکٹھے اور مجتمع رہیں، ہم آہنگ اور قرآن کی طرف متوجہ رہیں تو وہ قرآن کی تلاوت جاری رکھیں۔ یہی چیز قرآن سے اُنس پیدا کرتی ہے، دلوں کو تدبر کے لیے سرگرم وبیدار رکھتی ہے اور قرآن کے حقوقِ تلاوت ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
لیکن اگر وہ معانیِ قرآنِ کریم کے فہم میں اختلاف کرنے لگیں اور انھیں ایسے شبہات کا سامنا کرنا پڑے جو باعثِ نزاع ہوں اور تفرقے کاموجب بنیں اور فتنے، جھگڑے اور دشمنی کو جنم دیں تو ایسی حالت میں انھیں چاہیے کہ وہ مجلس سے اٹھ جائیں اور منتشر ہوجائیں، تاکہ ان کا یہ اختلاف انھیں کسی بڑے شر میں نہ ڈال دے۔
بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ ایسے شبہات ترک کردیں جو تفرقے کا باعث بنتے ہیں اور ایسی محکم باتوں کے ساتھ تمسک کریں جو باہمی الفت کا سبب ہیں۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں معاملاتِ دین میں نزاع اور تفرقے سے شدید انداز میں خبردار کرتے ہوئے ایسی چیز کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو مسلمانوں کی یکجہتی کو محفوظ رکھتی اور ان کی باہمی مودّت کو دوام بخشتی ہے۔
علاوہ ازیں حدیث میں باہمی اُلفت کی ترغیب ہے، دین میں تفرقے سے ڈرایا گیا ہے اور یہ کہ قرآنِ کریم کے معاملے میں ناحق بحث وجدل سے پرہیز کیا جائے۔