«جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہوتو کہو: اللہ تعالیٰ تمھاری تجارت میں نفع نہ دے۔ اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اسے)تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمھاری چیز تمھیں نہ لوٹائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مندرجِ ذیل کتابوں میں مروى ہے:
سنن ترمذی (حدیث نمبر 1321)، السنن الکبریٰ از نسائی (حدیث نمبر 1305)، سنن دارمى (حدیث نمبر1441)،صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 1305)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 2339)۔
نیز دیکھیے صحیح الجامع (حدیث نمبر 573) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 291)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
مسجدیں اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں جنھیں عبادت، ذکرِ الٰہی، اقامتِ صلاۃ اور دیگر اُخروی اُمور کی انجام دہی کے لیے بنایا گیا ہے، تاکہ دلوں کا تعلق آخرت سے جڑ جائے اور دنیا سے ہٹ جائے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی ان امور کى طرف فرمائی جو مساجد کو دنیاوی معاملات، جیسے خرید و فروخت، گمشدہ چیزوں کا اعلان وغیرہ ، سے محفوظ رکھتى ہیں۔
چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مسجد میں کسی کو خرید يافروخت کرتے ہوئے دیکھو۔‘‘ یعنی تم کسی کو مسجد کے اندر سامان یا کوئی چیز بیچتے یا خریدتے دیکھو، یا تمھیں اس خریدوفروخت کے بارے میں معلوم ہو تو زبان سے علانیہ اور واضح طور پر اس کے سامنے کہیں کہ ’’اللہ تمھاری تجارت کو نفع نہ دے۔‘‘ ایسا سب مل کر کہیں، یا بعض افراد کہہ دیں کہ یہ فرضِ کفایہ ہے۔ تو تم اس کے خلاف نقصان اور محرومی کی دعا کرو، تاکہ اس کی تجارت ناکام ہوجائے اور اس کے ارادے کے برعکس نتیجہ نکلے اور اسے اس میں نفع نہ ہو۔ یہ زجر وتوبیخ اور سختی اس لیے ہے تاکہ آئندہ وہ ایسا نہ کرے ۔ تاکہ مسجدیں خرید و فروخت کا بازار نہ بن جائیں، جس سے ان کی حرمت وسکون ختم ہو جائے، جو کہ ان کی تعمیر کے مقصد کے خلاف ہے، اور ان میں افراتفری اور ہلچل ہونے سے نمازیوں اور عبادت گزاروں کا اطمینان اور سکون غارت ہوجائے۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد میں خرید و فروخت حرام ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ فعل مکروہِ تنزیہی ہے۔ بعض اہلِ علم نے یہاں تک کہا ہے کہ مسجد میں خرید وفروخت کا سودا (معاہدہ) باطل ہے، لیکن راجح قول یہی ہے کہ یہ ناجائز تو ہے، مگر معاہدہ فاسد (باطل) نہیں ہوتا۔ البتہ مسجد میں خرید و فروخت کے علاوہ کچھ دیگر معاملات جائز ہیں، جیسے: کسی کو تحفہ دینا، قرض سے بری الذمہ کردینا، عقدِ نکاح کرنا، یا قرض کی وصولی وغیرہ۔
اسی طرح مسجد کی حرمت وتقدس کے تحفظ میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر تم کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرتے ہوئے دیکھو، یعنی وہ بلند آواز سے گم شدہ چیز کا اعلان کرے، خواہ وہ کوئی جانور ہو یا کوئی اور چیز (البتہ بعض نے لفظ ’’ضالۃ‘‘ کو جانور کے ساتھ مخصوص کیا ہے، یعنی اگر اعلان گم شدہ جانور کے بارے میں ہو) تو تم اُسے کہو: ’’اللہ کرے تمھیں وہ چیز نہ ملے۔‘‘ یعنی اُسے جھڑکنے اور سزا دینے کے لیے بددعا کرو کیونکہ اُس نے مسجد کے ادب واحترام کو ملحوظ نہیں رکھا، بلکہ اپنی آواز بلند کی اور نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو پریشانی سے دوچار کیا۔
حدیث میں مسجد کی حرمت وتقدس کا ذکر ہے، نیز یہ کہ اس کی حرمت کا خیال رکھنا اور اس کی تعظیم کرنا واجب ہے۔ جب مسجد میں ایک جائز وحلال کام، یعنی تجارت کرنے والے کو ایسی زجروتوبیخ کی گئی اور سخت ڈانٹ پلائی گئی ہے تو ان لوگوں کو خود سوچنا چاہیے جو گپیں ہانکنے کے لیے مسجد کو ڈیرہ بنالیتے ہیں؟!