بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! ہاتھ روکنے والے (بخیل) کے مال کو تلف کردے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر: 1442) اورصحیح مسلم (حدیث نمبر 1010) میں مروى ہے۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


مال درحقیقت اللہ کا مال ہے۔ بندے صرف اس کے نائب (وکیل) بنائے گئے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کیا رویّہ اختیار کرتے ہیں۔ جو شخص اسے اللہ کی رضا میں خرچ کرے تو وہ توفیق یافتہ ہے۔ اور جو شخص اس میں بخل سے کام لے، یا اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرے تو وہ بدنصیب ہے۔
اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی کے مختلف راستوں میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور بخیلی اور ہاتھ روک رکھنے سے خبردار فرمایا ہے، نیز اس کے برے انجام کو واضح فرمایا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جب تک قیامت قائم نہ ہو، روزانہ دو فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان سے اترتے ہیں: ان میں سے ایک فرشتہ دعا کرتا ہے (اور فرشتے کی دعا قبول ہوتی ہے): اے اللہ! جو شخص نیکی اور خیروبھلائی کے راستوں میں خرچ کرے، خواہ اس کا یہ خرچ کرنا واجب ہو یا مستحب۔ اس میں تمام اخراجات شامل ہیں، مثلاً: اہل وعیال پر خرچ، صلہ رحمی کی نیت سے رشتہ داروں پر خرچ اور دیگر صدقات کی مد میں خرچ۔ تو اسے ’’خلف‘‘ عطا فرما، یعنی نعم البدل اور عظیم الشان بدلہ دے، چنانچہ اُسے مال عطا کیا جاتا ہے اُس کے عوض جو اُس نے خرچ کیا۔ اور اُس کے مال واولاد میں برکت دی جاتی ہے اور وہ آخرت میں جزائے عظیم پاتا ہے۔ پس ’’خلف‘‘ مال اور ثواب دونوں کو شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بھی موافق ہے: ’’اور تم جو چیز بھی خرچ کروگے تو وہ اس کا عوض دے گا۔‘‘ (سبا: 39)
اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! روکنے والے کو ’’تلف‘‘ دے۔ یعنی اُس شخص کو جو خیر کے مواقع پر خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے، ہلاکت اور ضیاع سے دوچار فرما۔ لفظ ’’تلف‘‘ عام ہے۔ یہ بعض اوقات حسی ہوتا ہے، جیسے مال بذاتِ خود کسی بھی نوع کے نقصان سے ضائع ہوجائے۔ اور بعض اوقات یہ تلف معنوی ہوتا ہے، جیسے برکت سلب کرلی جاتی ہے، چنانچہ آدمی دنیا میں اُس سے صحیح فائدہ نہیں اُٹھاپاتا اور نہ خرچ کر کے اُخروی نیکیوں میں سے کچھ حاصل کرتا ہے، بلکہ وہ اُسے مسلسل روکے رکھتا ہے، یہاں تک کہ مر جاتا ہے تو وہ مال اُس کے لیے عذاب کا سبب بن جاتا ہے۔ اُس کے مرنے کے بعد وہ مال کسی ایسے کے ہاتھ آ جاتا ہے جو نہ اس کى تعریف کرتا ہے، بلکہ بسااوقات اُسے لعن طعن بھی کرتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے: ’’تلف‘‘ اُس شخص کو پہنچتا ہے جو مال کو ایسى جگہوں پر خرچ کرنے سے باز آتا ہے جہاں اللہ نے اس پر خرچ کرنا واجب کیا ہے، پس وہی ہے جو اپنے مال کے ضیاع یا اپنی جان کی ہلاکت کا مستحق بن جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو نفلی امور میں خرچ سے رک جاتا تو وہ اس بددُعا کا مستحق نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اُس کا ثواب کم ہوجاتا ہے اور آخرت کے فائدے سے محروم رہ جاتا ہے۔ الا یہ کہ کہ بخل اُس پر غالب آجائے، خواہ بہت تھوڑی مقدار میں ہو، جیسے: ایک دانہ یا ایک لقمہ۔ تو یہ شخص اس بددُعا کا مستحق بن سکتا ہے کیوں کہ بخل کا مذموم وصف اُس پر غالب آچکا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں خیر کے کاموں میں خرچ کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب، نیز بخل اور اُس کے بُرے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔