«تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔»
راوی نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمان رحمہ اللہ نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت سے حجاج کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ (قرآن مجید پڑھانے کے لیے) بٹھا رکھا ہے۔‘‘
یہ حدیث بروایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5027) میں مروى ہے۔
نیز صحیح بخاری (حدیث نمبر 5028) میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں: ’’تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔‘‘
حدیث کی مختصر وضاحت
قرآنِ کریم تمام کتابوں میں سب سے عظیم اور سب سے بلند مرتبہ کتاب ہے۔ جو اس کو مضبوطی سے تھامے، وہ کامیاب ہوا اور نجات پاگیا۔ اور جو اس سے مُنھ موڑے، وہ گمراہ ہوا اور ہلاکت میں پڑا۔ یہ امت ہمیشہ خیر پر رہے گی جب تک وہ تلاوت اور عمل کے ذریعے قرآن کو لازم پکڑے رہے گی۔ قرآن پر عمل میں جو چیز مددگار ہے، وہ اس کا سیکھنا اور سکھانا ہے کیونکہ یہی ہدایت اور فلاح کا راستہ ہے۔ قرآن کا اہتمام کرنا ایک اہم ترین ضرورتِ دینی ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اُس بات کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو اس ضرورت کو پورا کرسکتی ہے،
چناں چہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے واضح كرديا کہ صحابہ کرام سے لے کر تاقیامت اس امت کے افراد میں سے وہ لوگ سب سے بہتر، سب سے افضل اور سب سے بلند مرتبہ ہیں، جو پورےقرآن کو يا اس کے کچھ حصے کو، اس کی تلاوت كى صورت میں، اس کے حروف و کلمات کو حفظ کرنے کى شکل میں اور اس کے معانی کے فقہ وفہم اور تفسیر پر توجہ مركوز کرکے، سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اخلاص کے ساتھ سیکھے سکھائے اور مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ اسی طرح وہ قرآن میں موجود اخلاق وآداب اور احکام پر عمل پیرا ہو۔
جس شخص نے یہ سب اوصاف اپنے اندر جمع کرلیے تو وہی اس خیر کا مستحق ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مصداق بن گیا: ’’اور بات کے اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں!‘‘ (فصلت: 33)
چنانچہ تعلیمِ قرآن اللہ کی طرف دعوت دینے سے تعلق رکھتی ہے، بلکہ وہ دعوتِ الی اللہ کے مراتب میں سب سے بلند اور سب سے عظیم مرتبہ ہے۔
پھر راویِ حدیث نے ذکر کیا کہ ابوعبدالرحمٰن السُّلَمی (جو کہ بڑے تابعین میں سے تھے) نے لوگوں کو خلافتِ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لے کر حجّاج بن یوسف ثقفی کے دور تک قرآن پڑھایا۔ یہ ایک طویل مدت ہے جو چالیس سال سے زیادہ پر مشتمل ہے۔ اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ وہ اس مقام اور مجلس میں اتنا طویل عرصہ محض اس لیے بیٹھے رہے ہیں کہ حدیثِ مبارک میں اس کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ یہ بلند مرتبہ اور عظیم الشان مجلس انھیں قرآنِ کریم کی تعلیم کے ذریعے نصیب ہوئی۔ درحقیقت یہ انتہا درجے کا شرف وفضل ہے کیونکہ سب سے اشرف عمل اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ قرآن کا سیکھنا اور سکھانا ہے اور چونکہ سب سے بہترین کلام اللہ کا کلام ہے تو انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے بہتر لوگ وہی ہیں جو اللہ کا کلام سیکھیں اور سکھائیں۔
اس حدیث مبارک میں قرآن کی فضیلت، اس کا عظیم الشان مرتبہ اور اُس کے سیکھنے اور سکھانے کے شرف کا بیان ہے۔