«جو بارہ رکعات سنت پر ہمیشگی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ (وہ بارہ رکعات یہ ہیں:) چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مندرج ذیل کتابوں میں مروی ہے:
سنن ترمذی (حدیث نمبر 414)، سنن النسائی (حدیث نمبر 1794)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1140) ۔
نیز ملاحظہ ہو: صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6183)، صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 580) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نماز دین کا ستون اور جسمانی عبادات میں سب سے افضل عبادت ہے، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نماز کا خوب اہتمام کرے اور اس کی مکمل پابندی کا شوق رکھے۔ اگر فرض نماز میں کوئی کمی رہ جائے تو شریعت نے اس کمی کی تلافی اور نماز پڑھنے والے کے درجات بلند کرنے کے لیے نوافل کو مشروع قراردیا ہے۔ نفلی نماز اُن اُمورِ تقربات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت پسند ہیں۔
ان نوافل میں سنن رواتب، یعنی فرض نماز کی سنتیں بھی شامل ہیں جن کی بہت تاکید نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، چنانچہ ارشادِ نبوی ہے: ’’من ثابر‘‘ یعنی جو پابندی، استقامت اور محنت کے ساتھ روزانہ انھیں ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک عظیم محل بناتا ہے جس میں جنت کی قسماقسم نعمتیں شامل ہیں۔ یہ نوافل دن اور رات کے دوران بارہ رکعتیں ہیں جو فرض کے علاوہ ہیں: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔ یہ مؤکدہ سنتیں ہیں اور مختلف اوقات میں ادا کی جاتی ہیں؛ کچھ فرض سے پہلے اور کچھ فرض کے بعد۔
بعض علماء نے ان میں سے کچھ نوافل کے پہلے اور کچھ کے بعد میں ہونے کى خوبصورت توجیہ یہ کی ہے کہ کچھ نوافل فرض سے پہلے رکھے گئے ہیں، تاکہ نماز کے لیے نفس کو تیار کیا جائے اور وہ مستعد ہوجائے۔ اور تاکہ فرض نماز پوری طرح اور مکمل ادا ہو۔ کچھ سنتیں بعد میں رکھی گئی ہیں، تاکہ اگر فرض میں کچھ کمی اور نقص رہ گیا ہو تو اسے ان سنتوں سے پورا کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ عظیم اجر صرف اس شخص کے لیے ہے جو ان نوافل کی پابندی کرے اور روزانہ انھیں ادا کرے، نہ کہ وہ جو کبھی کبھار ان كوپڑھتا ہو!