جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«کسی بھی مال پر زکات نہیں ہے، یہاں تک اس پر سال گزر جائے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1792)، سنن دارقطنی (حدیث نمبر 1889) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 7274) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7479) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 787) ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


زکات اسلام کے ارکان (ارکانِ خمسہ) میں سے ایک رکن اور اسلام کے عظیم الشان شعائر میں سے ایک شعار ہے۔ جس مسلمان پر زکات فرض ہوجائے، اسے چاہیے کہ وہ خوش دلی کے ساتھ اسے ادا کرے، تاکہ زکات کی وجہ سے اس کا مال پاک ہو اور وہ آفات وآلودگیوں سے صاف ہوجائے۔ اس حدیثِ مبارکہ میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکامِ زکات میں سے ایک اہم حکم بیان فرمایا ہے، چنانچہ مال میں زکات اس وقت تک واجب نہیں ہوتی جب تک مال اس پر ایک سال نہ گزر جائے!
یہاں ’’مال‘‘ سے مراد وہ دولت ہے جس میں بڑھنے اور افزائش پانے کی صلاحیت ہو، جیسے:ـ مویشی، نقدی رقم اور تجارتی سامان۔ اور ’’حول‘‘ سے مراد ہے کہ مال پر پورا ایک سال، یعنی قمری ہلالی سال گزرجائے اور مال اپنے مالک کی ملکیت میں موجود رہے، بشرط کہ اس کی مقدار شرعی نصاب تک پہنچتی ہو۔ ہر مال کا نصاب اس کی جنس ونوعیت کے مطابق ہے۔ اگر مال نصاب سے کم ہو، یا نصاب پر تو پہنچا ہو، مگر سال کے دوران اس میں کمی واقع ہوجائے تو اس میں زکات واجب نہیں ہوگی۔ مال کا نصاب تک پہنچنا اور اس پر سال کا گزرنا، یہ دونوں شرطیں وجوبِ زکات کے لیے لازم ملزوم ہیں۔
سال گزرنے کی شرط عائد کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بڑھوتری وافزائش سال گزرنے ہی پر ظاہر ہوتی اور پہچانی جاتی ہے۔ یہ حکم قابلِ نمو مال کے بارے میں ہے، البتہ جو اموال غیرنامی (ناقابلِ نمو واضافہ) ہیں، جیسے: کھیت اور پھل، تو ان پر سال گزرنے کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے پک کر تیار ہونے اور ان کی کٹائی کے وقت کو دیکھا جائے گا، چنانچہ اس وقت ان کی زکات نکالنا واجب ہوگا، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔‘‘ (الانعام: 141) اسی طرح وہ مال جن میں سال گزرنے کی شرط عائد نہیں کی جاتی، بلکہ ان میں نصاب تک پہنچنے کی بھی شرط نہیں ہے، معدنیات اور دفینے ہیں، چنانچہ جیسے ہی وہ زمین سے حاصل ہوں گے تو فوراً ان کی زکات نکالی جائے گی۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔