«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرۂ عقبہ کی رمی کرلیتے تو چلے جاتے اور رکا نہیں کرتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 3033) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4736) اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (حدیث نمبر 2073)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک حجۃ الوداع میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال بیان کرتی ہے، خاص طور پر یومِ نحر کو جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے کے متعلق۔ یہ اُن جگہوں میں سے ایک ہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مناسکِ حج کا طریقہ واضح کیا گیا ہے، تاکہ آپ کی اقتدا اور پیروی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تھا: «مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو۔» اور انھی مناسک میں سے ایک جمرۂ عقبہ کی رمی بھی ہے۔
جمرۂ عقبہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ منیٰ کے ایک سرے پر ’’عقبہ‘‘ کے پاس واقع ہے اور یہ — وہی جگہ ہے جہاں انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیعتِ عقبہ ہوئی تھی۔ مکہ سے قربت کے اعتبار سے جمرہ عقبہ جمرات میں سے پہلا جمرہ ہے اور منى سے قربت کے اعتبار سے یہ آخرى جمرہ ہے اسے ’’جمرۂ کبرى‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی رمی صرف یومِ نحر کو کی جاتی ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جمرۂ عقبہ کی رمی کی بابت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی خبر دے رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یومِ نحر کو اس کی رمی کرلی تو جمرۂ صغریٰ اور جمرۂ وسطیٰ کے طریقۂ رمی کے برخلاف آگے چلے گئے اور دعا کے لیے نہیں رکے کیونکہ جمرۂ صغریٰ اور جمرۂ وسطیٰ کے پاس دعا کے لیے لمبا وقت ٹھہرا کرتے تھے۔
علماء نے جمرۂ عقبہ کے پاس نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعا نہ کرنے کی کئی توجیہات بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں جگہ تنگ تھی، چنانچہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دعا کے لیے رُک جاتے تو یہ لوگوں پر مشقت کا سبب بنتا اور ان کے لیے تنگی پیدا ہوجاتی۔
ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ پہلے دو جمرات (جمرۂ صغریٰ اور جمرۂ وسطیٰ) کے پاس دعا عبادت کے دوران ہوتی ہے، یعنی اس سے فراغت سے پہلے، جب کہ جمرۂ عقبہ کے پاس رمی (کی عبادت) مکمل ہوجاتی ہے۔ اور عبادت کے دوران دعا عبادت کے اختتام کے بعد کی دعا سے افضل ہے۔ یا ایسا دیگر شرعی حکمتوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی سمجھنے والا انھیں سمجھ سکے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر کوئی انھیں نہ سمجھ سکے تو ایک مسلمان پر تسلیم واتباع ہی لازم ہے۔