بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یومِ نحر کو اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: ’’چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے مجھ سے سیکھو کیونکہ مجھے نہیں پتا کہ شاید اپنے اس سال کے بعد میں حج نہ کرسکوں۔‘‘»


یہ حدیث بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1297) میں مروی ہے۔
سنن نسائی (حدیث نمبر 4002) کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: «اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، شاید اپنے اس سال کے بعد تم سے نہ مل سکوں۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


حج ایک عظیم عبادت اور اسلام کا ایک جلیل القدر رکن ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار حج کیا اور اس میں لوگوں کو قول وفعل سے ان کے مناسکِ حج سکھائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواہاں تھے کہ وہ شعائرِ حج میں سے ہر شعار لوگوں کو سکھادیں، تاکہ لوگ آپ کی اقتدا اور آپ کے طریقہ کار کی اتباع کریں۔
اس حدیث مبارک میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ نحر، یعنی 10 ذوالحجہ کو اپنی اونٹنی ’’قصواء‘‘ پر سوار ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اور آپ یہ فرما رہے تھے: «چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے مجھ سے سیکھو کیونکہ مجھے نہیں پتا کہ شاید میں اپنے اس حج کے بعد میں حج نہ کرسکوں۔» یعنی میرے قول وفعل سے حج کے شعائر اور مناسک سیکھ لو، چنانچہ ان پر عمل کرو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے سے مناسکِ حج لینے کی ترغیب دینے کی وجہ بھی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے کہ شاید وہ اپنے اس حج کے بعد دوبارہ حج نہ کرسکیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی وفات کے قریب ہونے کا اشارہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کو ’’حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ شرعی احکام کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے حاصل کرنا واجب ہے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تصویبات ہی شعائرِ اسلام کو جاننے کا اصل ماخذ ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں جو باتیں اجمالاً بیان ہوئی ہیں، سنتِ نبویہ ان کی وضاحت اور تشریح کے لیے آئی ہے۔ اور انھی میں سے ایک مناسکِ حج کا سیکھنا ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔