«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنواسلم کے ایک شخص کو لوگوں میں اس بات کے اعلان کا حکم دیا کہ جو کھا چکا ہو تو وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے (دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکا رہے) اور جس نے ابھی تک نہیں کھایا تو وہ روزہ رکھے کیونکہ آج کا دن عاشوراء کا دن ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 2007) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1135) میں مروی ہے۔ اور الفاظ صحيح بخارى کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
’’یومِ عاشوراء‘‘ اللہ کے مہینے محرم کا دسواں دن ہے اور وہ ایک بابرکت اور فضیلت والا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کردیا۔ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس دن روزہ رکھتے دیکھا تو ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی، فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا، لہٰذا موسیٰ نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میں (تعلق وقربت میں) موسیٰ علیہ السلام پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔» چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس دن کے روزے کا حکم فرمایا۔
حدیث میں ہے کہ حضرت سَلَمہ بن اكوع رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص حضرت ہند بن اسماء بن حارثہ الاسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عاشوراء کے دن لوگوں میں منادی کریں کہ جس نے آج کھا پی لیا ہے تو وہ اب بقیہ دن روزے کی نیت سے ممنوعاتِ روزہ (کھانے پینے اور بیوی سے قربت وغیرہ) کی پابندی کرے کیونکہ اس دن کا روزہ واجب ہوچکا ہے۔ ان لوگوں کا دن کے وقت سے روزہ رکھنا اسی وجہ سے صحیح ہوا کہ وہ لاعلم تھے۔ اور اس لیے بھی کہ یہ دن حرمت وتقدس والا تھا۔ اور جنھوں نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا پیا تو وہ بقیہ دن روزے کی نیت سے رک جائیں۔
نص کے ظاہر کے پیشِ نظر علماء کی ایک جماعت یومِ عاشوراء کے روزے کے وجوب کی طرف گئی ہے، جب کہ دیگر اہلِ علم نے کہا ہے کہ یومِ عاشوراء کا روزہ مستحب ہے۔ اور انھوں نے ’’اِمساک‘‘ (رکنے) کے حکم کو یومِ عاشوراء کے روزے کی تاکید واہمیت پر محمول کیا ہے۔ پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض کیے گئے تو یومِ عاشوراء کے روزے کا وجوب منسوخ ہوگیا اور علماء کے اِتفاقی موقف کے مطابق اس کا استحباب باقی رہا۔