«بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «یہ دن کیا ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟» تو انھوں نے کہا کہ یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی، فرعون اور اس کی قوم کو غرقاب فرمایا، چنانچہ موسیٰ نے شکرانے کا روزہ رکھا تو اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ہم تمھاری نسبت موسى علیہ السلام کے زیادہ حق دار اور قریب ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور یہ روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 2004) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1130) میں مروی ہے۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
’’یومِ عاشوراء‘‘ اللہ کے مہینے محرم کا دسواں دن ہے۔ یہ ایک عظیم الشان دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت بخشی اور اسے روزے کی فضیلت کے ساتھ خاص فرمایا نہایت ارفع شرعى حکمتوں کى بنا پر جنھیں اللہ سبحانہ وتعالى ہى جانتا ہے۔ اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دوسرے سال یہود کو محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھتے پایا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے روزے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ یہ دن ایک عظیم دن ہے جس میں عظیم واقعات پیش آئے جنھوں نے اسے قابلِ تعظیم بنا دیا۔
چنانچہ (اس دن) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی، فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کردیا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے بس یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کے لیے اس دن روزہ رکھا اور یہود نے بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیروی میں روزہ رکھا۔ تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے حق دار اور قریب ہیں۔» کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت ورسالت، اُصولِ دین وتوحید اور اخوتِ ایمانی میں شریک ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور بطورِ واجب صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی یہ روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ نص کے ظاہر کے مطابق علماء کی ایک جماعت کا یہی موقف ہے، جب کہ دیگر اہلِ علم کا کہنا ہے کہ اس کا روزہ مستحب ہے۔ انھوں نے ’’اِمساک‘‘ (رُکنے) کے حکم کو اس کے روزے کی تاکید پر محمول کیا ہے۔ پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض کیے گئے تو یومِ عاشوراء کے روزے کے وجوب کو استحباب میں بدل دیا گیا، چنانچہ اب جو چاہے، وہ اس دن کا روزہ رکھے اور جو چاہے، نہ رکھے۔ اس روزے کے مستحب ہونے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
حدیثِ مبارک میں اس بات کی مشروعیت وجواز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کے طور پر اس کی عبادت کی جائے، یعنی بندہ اُن عبادات میں سے کوئی مشروع وجائز عبادت سرانجام دے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ظاہر کرے، بشرط کہ وہ دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد نہ کرے جو دین میں سے نہ ہو۔