«بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کا استلام نہیں کرتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1609) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1267) میں مروی ہے۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: «میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ (کے کسی حصے کو) کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔»
مسند احمد (حدیث نمبر 4686)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1876) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2947) کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: «طواف کے ہر چکر میں۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4751) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2078)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
بیت اللہ کا طواف اُن عظیم عبادات میں سے ہے جنھیں ایک مسلمان انجام دیتا ہے۔ طواف کے مستحب اعمال میں سے ایک عمل دو یمنی کونوں، یعنی حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا استلام ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے دوران صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کو چھوتے تھے (اور وہ بھی تب) جب ان کے سامنے آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں کونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رکھی ہوئی بنیادوں پر قائم ہیں، بالخصوص اس کونے کی فضیلت کے باعث جس میں حجرِ اسود نصب ہے، چنانچہ اجماع ہے کہ ان دونوں کونوں کا استلام مستحب ہے۔ باقی دو کونے چونکہ ابراہیمی بنیادوں پر نہیں ہیں، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک ان کا استلام نہیں کیا جائے گا۔
حجرِ اسود کے استلام کے چند درجات ہیں: اگر ممکن ہو تو براہِ راست اسے چومنا۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو ہاتھ سے چھوئے اور ہاتھ چوم لے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی چیز، جیسے: چھڑی کے ذریعے حجرِ اسود کو چھوئے، پھر اُس چیز کو بوسہ دے۔ اور اگر یہ بھی دشوار ہو تو محض ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہے، مگر ہاتھ کو چومے بغیر کیونکہ وہ براہِ راست حجرِ اسود سے مس نہیں ہوا۔ رہا رکنِ یمانی تو اسے بغیر بوسہ دیے اور بغیر اشارہ کیے ہاتھ سے چھونا خاص ہے۔
استلام کی جگہ دو رکن (رکنِ یمانی اور حجرِ اسود) ہیں، بشرط کہ طواف کرنے والوں کو ایذا پہنچائے بغیر میسر آجائے کیونکہ ایذا دینا حرام ہے اور استلام سنت ہے، چنانچہ سنت کو حرام پر مقدم نہیں کیا جاسکتا۔
رہی بات عورتوں کی تو ان کے لیے دونوں رکنوں (حجرِ اسود اور رکنِ یمانی) کا استلام اس وقت مشروع ہے جب مطاف خالی ہو، جیسے: رات کے وقت، یا دیگر مواقع۔ یہ احتیاط عورتوں کے فتنے میں پڑجانے، یا ان کی وجہ سے فتنہ پیدا ہوجانے کی وجہ سے ہے۔
حدیثِ مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال میں اِقتدا واِتباع کا بیان ہے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترک میں بھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے گی) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام چھوڑ دیا ہو، اسے ’’سنتِ ترکیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک جلیل القدر قاعدہ واُصول ہے جس کے ذریعے شریعت کے احکام محفوظ اور دین میں بدعت سازی کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔