«جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں برابر وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 6015) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2625) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اسلام نے ایک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر حقوق کو عظمت دی ہے اور ان کی حفاظت وادائیگی کو اس پر واجب قرار دیا ہے۔ ان میں سب سے بڑے حقوق میں سے پڑوسی کا حق ہے کیونکہ محبت کے رشتوں کو مضبوط بنانے اور مسلم معاشرے کے روابط کو تقویت دینے میں یہ موثر کردار رکھتا ہے۔
سنتِ نبویہ نے اس حق کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، چنانچہ حدیث مبارک میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اِرشاد فرمارہے ہیں:
«جبریل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔» یعنی پڑوسی کے بارے میں جبریل علیہ السلام کی بہت زیادہ وصیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گمان ہوا کہ شاید وراثت میں بھی پڑوسی کا حصہ رکھ دیا جائے گا۔ — اس سے پڑوسی کے حق کی بے پناہ عظمت اور بلند مقام ظاہر ہوتا ہے۔
اور پڑوسی کے بارے میں وصیت میں شامل ہے: اس کے ساتھ بھلائی کرنا، اسے اذيت دینے سے بچنا، ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دینا، اس کی ایذا رسانی پر صبر کرنا اور اس کی شایانِ شان عزت کرنا۔
’’پڑوسی‘‘ کا اِطلاق اُس شخص پر ہوتا ہے جو ملا ہوا (نزدیک ترین) ہو، یا عرفاً قریب ہو، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، قریبی ہو یا دور کا۔ پس قریبی مسلمان کے تین حقوق ہوتے ہیں: اسلام، رشتہ داری اور پڑوس۔ اور جو مسلمان قریبی نہیں، اس کے دو حقوق ہیں: اسلام اور پڑوس۔ اور کافر کا ایک حق ہے: پڑوس۔ پڑوسی دروازے کے اعتبار سے جتنا قریب ہو، وہ عزت کا اتنا ہی زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ قرآن نے اس حق کی عظمت بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے۔‘‘ (النساء: 36) اور سنتِ قولیہ نے بھی اس معنی کو موکد کیا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے: «جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔» تو پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ جوڑا ہے۔ یہ پڑوسی کے حق کا خیال رکھنے اور اسے ایذا نہ دینے کی ترغیب کے لیے ہے۔