بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«عیدالفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں۔ اور عیدین میں قراءت تکبیرات کے بعد ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سنن ابوداود (حدیث نمبر 1151) اور سنن نسائی کبریٰ (حدیث نمبر 1817) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3017) اور صحیح ابوداود (حدیث نمبر 1045)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے یہ ہے کہ اس نے ان کے لیے عیدیں مشروع فرمائیں۔ عیدوں کے نمایاں شعائر میں سے ایک عید کی نماز ہے۔ اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نمازِ عید کے خصائص میں سے دو خصوصیات کے بارے میں خبر دے رہے ہیں:
پہلی خصوصیت: اضافی تکبیرات۔ اور دوسری خصوصیت: تکبیر کے بعد قراءت۔
سنت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ سمیت سات تکبیریں کہی جائیں اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ پانچ تکبیریں۔ اس کے بعد امام سورۃ الفاتحہ اور اس کے ساتھ کسی اور سورت کی قراءت کرے۔ مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ (ہل أتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھی جائے، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ یا پہلی رکعت میں سورت قٓ (قٓ القرآن المجید) اور دوسری رکعت میں سورۃ القمر (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) پڑھی جائے، جیساکہ حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
سنت یہ ہے کہ امام اپنی قراءت میں تنوع رکھے، چنانچہ کبھی سورۃ الاعلیٰ «سَبِّح» اور سورت «الغاشیہ» پڑھ لے اور کبھی سورۃ «ق» اور سورۃ القمر «اقتربت الساعة» کی قراءت کرلے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «عیدالفطر میں تکبیر ہے» — میں ایسا کچھ نہیں ہے جو اس حکم کو صرف عیدالفطر کی نماز کے ساتھ خاص کرے، بلکہ یہ عیدالاضحیٰ کی نماز کو بھی شامل ہے کیونکہ نماز کے طریقے کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔