جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«تم ہر سورت کو رکوع وسجود میں سے اس کا پورا حصہ دو۔»


یہ حدیث صحابہ کرام میں سے کسى ایک صحابی كى روايت سےمسند احمد (حدیث نمبر 20590، 20651)، مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 949) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 4694، 4695) میں مروی ہے۔
اور معجم کبیر از طبرانی (حدیث نمبر 9856) میں یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1054) اور کتاب ’’اصل صفۃ الصلاۃ‘‘ (1/396)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ سنت میں سے ہے کہ نماز پڑھنے والے کی نماز کے ارکان میں توازن ہو، چنانچہ قراءت، رکوع اور سجدے میں اعتدال ملحوظ رکھا جائے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تم ہر سورت کو رکوع وسجود میں سے اس کا پورا حصہ دو۔»
اور ’’سورت‘‘ سے مراد وہ ہے جو سورۂ فاتحہ کے بعد پڑھا جاتا ہے۔ بعض علما نے اس حدیث کو اس معنی پر محمول کیا ہے کہ اگر نمازی قراءت کو طویل کرے تو اُسے اپنی نماز میں توازن کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ قیام کو تو طول دے، مگر رکوع اور سجدے کو حد سے زیادہ مختصر کردے! بلکہ وہ نماز کے ارکان میں سے ہر رکن کو ذکر، خشوع اور اطمینان کے ساتھ اس کا پورا حق دے، تاکہ نماز مکمل ہو اور دل حاضر رہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ رکوع اور سجدہ قیام کے قریب المقدار ہوں۔ اس کی دلیل امام مسلم کی روایت کردہ حدیث ہے جو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں: «میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز بڑی توجہ کے ساتھ پڑھی تو میں نے ان کا قیام، ان کا رکوع، رکوع کے بعد ان کا اعتدال، ان کا سجدہ، سجدوں کے درمیان ان کا بیٹھنا، دوسرا سجدہ اور سلام پھیرنے اور انصراف (پھرنے) کے مابین ان کا بیٹھنا، سب کو تقریباً برابر پایا۔» اور ایک روایت میں ہے: «سوائے قیام اور قعود کے، سب قریب قریب برابر تھے۔»
بعض اہلِ علم نے اس حدیث کو اس معنی پر محمول کیا ہے کہ مقصود یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد صرف ایک ہی سورت پڑھی جائے، نہ یہ کہ ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھی جائیں اور نہ یہ کہ ایک سورت کو دو رکعتوں میں تقسیم کردیا جائے، تاکہ قرآن کا ہر حصہ الگ رکوع اور سجدے کے ساتھ ادا کیا جائے اور اسے اس کے شایانِ شان ذکر اور خشوع میں سے حصہ دیا جائے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔