«زمانۂ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن روزے رکھتے تھے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن جب ماہِ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوگئے اور عاشوراء کو چھوڑ دیا۔ تو اب جس کا جی چاہے، اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے، نہ رکھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 4504) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1125) میں مروی ہے۔ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1126) کی ایک حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ہے جس کے الفاظ ہیں: «بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے یہ (عاشوراء کا) روزہ رکھا اور مسلمانوں نے بھی۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
فضیلت والے دنوں میں سے ایک دن جس کی فضیلت سنت سے ثابت ہے، یومِ عاشوراء ہے، یعنی اللہ کے مہینے محرم کا دسواں دن۔ یہ ایک عظیم الشان دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی، فرعون اور اس کی قوم کو غرقاب کیا۔ سنت نے اس دن کے روزے کے حکم کے مختلف مراحل بیان کیے ہیں، جیساکہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آیا ہے۔ قریش زمانۂ جاہلیت میں بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جیساکہ اسلام کی آمد سے پہلے عرب اللہ اور اس کے احکام سے جاہل ہونے اور بتوں کی عبادت کرنے کے باوجود اس دن کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس کا روزہ رکھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک بھی اس دن کی قدر ومنزلت تھی۔ غالباً انھوں نے یہ تعظیم کسی سابقہ شریعت سے لی تھی، چنانچہ وہ غلافِ کعبہ تبدیل کر کے اور تعظیم کے دیگر مظاہر کے ذریعے اس دن کی تعظیم کیا کرتے تھے۔
اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہجرت سے پہلے قریش کے اچھے کاموں میں ان کی موافقت کرتے ہوئے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ یہ یومِ عاشوراء کے روزے کا پہلا مرحلہ (ابتدائی حالت) ہے۔
ہجرت کے دوسرے سال نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہود یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے روزے رکھنے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا: یہ ایک نیک دن ہے۔ اس دن اللہ نے موسیٰ کو نجات دی اور فرعون کو غرق کیا۔ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم تمھاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور (صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ یہ یومِ عاشوراء کے روزے کی مشروعیت کا دوسرا مرحلہ ہے جس میں وجوب کا ظاہری پہلو پایا جاتا ہے۔ علماء کے ایک گروہ نے اسی ظاہر سے استدلال کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ابتدا میں عاشوراء کا روزہ فرض تھا، پھر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوگیا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی فرض روزہ نہیں تھا اور یومِ عاشوراء کا روزہ مستحب ہوگیا، چنانچہ جو چاہے، رکھ لے اور جو چاہے، اسے چھوڑ دے۔ جب کہ دیگر اہلِ علم کا کہنا ہے کہ عاشوراء کا روزہ کبھی واجب نہیں رہا۔ انھوں نے حکم کو اس پر محمول کیا ہے کہ وہ محض اس کے تاکیدی استحباب اور اس پر خصوصی توجہ دینے کے لیے تھا۔ یہ اس کی مشروعیت کا تیسرا مرحلہ ہے۔ یومِ عاشوراء کے روزے کے استحباب پر علماء کا اتفاق ہے۔
جہاں تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کا تعلق ہے کہ «نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھا» — تو اس کا ظاہری اور فوری زمانی مفہوم مراد نہیں ہے (کہ آتے ساتھ ہی روزہ رکھنا شروع کردیا)، بلکہ مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے اور ٹھہر جانے کے بعد۔ ہجرت کے دوسرے سال جب یومِ عاشوراء آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث مبارک میں یومِ عاشوراء کی فضیلت اور زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں اس دن کی تعظیم کا ذکر ہے۔
اسی طرح اس حدیث میں، علماء کی ایک جماعت کے نزدیک ابتدا میں اس دن کے روزے کے وجوب كا بيان ہے، جسے بعد میں بدل كر مستحب كرديا گیا۔ مزید برآں شریعتِ اسلامی میں منسوخیت کے جواز کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں اس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے اُن نیک اعمال میں موافقت کرنا مذکور ہے جو وہ سرانجام دیا کرتے تھے، مثلاً: یومِ عاشوراء کا روزہ، حج اور عمرہ۔