بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جب امام کہے: ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ (سن لیا اللہ نے اس کو جس نے اس کی حمد کی) تو تم کہو: ’’اللہم ربنا لک الحمد‘‘ (اے اللہ! ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد ہے)، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے سے ہم آہنگ ہوجائے، اُس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 796) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 409) میں مروی ہے۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 416) میں یہ حدیث ان الفاظ سے بھی مروی ہے: «پس جب اہلِ زمین کا کہنا اہلِ آسمان کے کہنے کے موافق ہوجائے... الخ۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


نماز ایک ایسی عظیم الشان عبادت ہے جس میں قولی اور فعلی، دونوں قسم کی عبادات موجود ہیں۔ نماز میں مختلف مقامات پر مخصوص اذکار مشروع کیے گئے ہیں۔ جب بندہ دل کی حاضری اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے ساتھ انھیں پڑھتا ہے تو اجر وثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ انھی مقامات میں سے ایک مقام رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد کا ذکر ہے جس کی طرف نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں رہنمائی فرمائی: «جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو تم ’’اللہم ربنا لک الحمد‘‘ کہو۔»
«سمع اللہ لمن حمدہ» کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے کی دعا قبول فرماتا ہے جو اُس کی حمد وثنا کرتا ہے۔ اس کے بعد مقتدی کہتا ہے: «اللہم ربنا لک الحمد»، یعنی اے میرے پروردگار! میں تجھے پکارتا ہوں درآں حال کہ حمد وتعریف تجھے ہی سزاوار ہے، کسی اور کو نہیں، تو ہماری حمد، شکر اور ثنا قبول فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
چنانچہ مقتدیوں میں سے جس کا «اللہم ربنا لک الحمد» کہنا وقت کے اعتبار سے فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں کیونکہ امام کے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہنے کے بعد فرشتے کہتے ہیں: «اللہم ربنا لک الحمد» اس لیے جب مقتدی بھی عین اسی لمحے ’’اللہم ربنا لک الحمد‘‘ کہتا ہے تو موافقت حاصل ہوجاتی ہے، چنانچہ اس کی بدولت اسے یہ فضلِ عظیم نصیب ہوجاتا ہے۔
حدیث مبارک میں دلیل ہے کہ مقتدی ’’اللہم ربنا لک الحمد‘‘ پڑھنے پر اکتفا کرے گا، یا دیگر دعائیں بھی پڑھ سکتا ہے جو صحیح احادیث میں مذکور ہیں۔
حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس سے مراد صرف صغیرہ گناہوں کی مغفرت ہے کیونکہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے، جب کہ اللہ کا فضل وکرم بے پایاں ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔