جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اور جہاد بھی نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان ومال خطرے میں ڈال کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا (سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا)۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 969) میں مروی ہے۔
یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 1968)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2438)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 757) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1727) میں ان الفاظ سے مروی ہے: «کوئی ایسے دن نہیں ہیں جن میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو اِن دنوں سے زیادہ محبوب ہو، یعنی (ذوالحجہ کے) دس دن ... الخ۔»
سنن دارمی (حدیث نمبر 1815) میں بایں الفاظ مروی ہے: «نہیں ہے کوئی عمل اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اجر والا اُس نیک عمل سے جو بندہ قربانی کے دس دنوں (یعنی ذو الحجہ کے ابتدائى دس دنوں) میں کرتا ہے ... الخ۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1148)>


حدیث کی مختصر وضاحت


اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت ونرمی میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے ان کے لیے طاعت ونیکی کے خصوصی موسم اور عبادات کے دروازے کھول رکھے ہیں، جن میں وہ نیکیوں کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں۔ ان اوقات میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں اور درجات بلند کیے جاتے ہیں۔
ان عظیم الشان روحانی موسموں اور جلیل القدر انعامات میں سے ایک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں جن کے بارے میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں ... الخ۔» یعنی ان دنوں میں کیے گئے نیک اعمال کی فضیلت ایسی ہے کہ سال کے باقی ایام میں کوئی بھی عمل، خواہ فرض ہو یا نفل، ان کے برابر نہیں پہنچ سکتا، حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لایا۔
لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ان مبارک ایام کو غنیمت جانتے ہوئے فرائض کی کامل پابندی کرے اور نماز، ذکر، استغفار، تہلیل (لا الٰہ اللہ کا ورد)، روزہ، خصوصاً یومِ عرفہ کا روزہ، صدقہ، قرآنِ کریم کی تلاوت، نیکی، صلہ رحمی، مخلوقات کے ساتھ احسان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام جیسی نفلی عبادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔ اسی طرح ان دنوں میں گناہوں سے اجتناب کرنا عام دنوں کی نسبت کہیں زیادہ اجر و ثواب رکھتا ہے کیونکہ عمل صالح طاعت کی انجام دہی اور بُرائی سے رک جانے کا نام ہے۔
جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس حدیث كو بتایا تو وہ متعجب ہوئے کہ آیا ذوالحجہ کے دس دنوں میں عملِ صالح جہاد سے بھی افضل ہے! کیونکہ ان کے نزدیک فرائض کے بعد جہاد فی سبیل اللہ سب سے افضل عمل تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ ان دس دنوں کے اندر کیا گیا عملِ صالح دیگر ایام میں کیے گئے جہاد سے بھی بڑھ کر ہے، سوائے ایک صورت کے اور وہ یہ کہ ایک مجاہد جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لایا، تو یہ وہ جہاد ہے جو ان مبارک دنوں کے اعمالِ صالحہ پر فوقیت رکھتا ہے۔
بعض اہلِ علم رحمہم اللہ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ذوالحجہ کے دس دن رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دس دنوں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، جب کہ ماہِ رمضان کی آخری راتیں لیلۃ القدر کی وجہ سے ان (ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتوں) سے افضل ہیں۔ بہرحال دونوں ہی موسم اپنی اپنی جگہ بے مثال فضیلت رکھتے ہیں۔
یہ حدیث مبارک شہادت اور جہاد فی سبیل اللہ کے عظیم مقام پر دلالت کرتی ہے۔
اسی طرح اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ فضیلت والے زمانے میں غیرافضل اعمال کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ غیرافضل زمانے کے ویسے ہی فضیلت والے اعمال سے بھی بڑھ جاتے ہیں!


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔