«نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمیِ جمار کرتے تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 6457)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1969)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 900)، سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 9558) اور سنن دارقطنی (حدیث نمبر 2481) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4735) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2072)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث شریف ایامِ تشریق میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رمیِ جمار کا طریقہ بیان کرتی ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرات کی طرف جاتے ہوئے بھی پیدل تشریف لے جاتے اور واپس آتے وقت بھی پیدل ہی لوٹتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایامِ تشریق میں جمرات کی طرف پیدل جانا اور پیدل ہی واپس آنا سنتِ نبوی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے حاجی کے لیے بھی ایسا کرنا مستحب ہے۔
البتہ یومِ نحر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کی تھی، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے۔
بعض اہلِ علم رحمہم اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام جمرات کے قریب تھا، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عملی تربیت دینے کے لیے ایسا کیا تھا، یا ایسا اس لئے کیا تھا کیوں کہ پیدل چلنے میں تواضع وخشوع كا اظہارہے۔ حکمت خواہ جو بھی ہو، سنت یہی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے اور ان کے طریقے پر عمل کیا جائے۔
جہاں تک وہ شخص جو ہمارے زمانے میں جمرات سے حاجیوں کی رہائش گاہوں کی دوری کی وجہ سے پیدل چلنا مشکل محسوس كرتا ہے۔ تو ایسے شخص پر سواری کے ذریعے رمی کے مقام تک جانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اصل مقصود تو شعارِ رمی کی ادائیگی ہے جو حاصل ہوجاتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ نیت کی بنا پر اسے اتباعِ نبوی کا اجر عطا فرمادے گا۔