«تمھیں تمھاری سحری سے بلال کی اذان دھوکے میں ڈالے اور نہ اُفق کی یہ مستطیل سفیدی، حتیٰ کہ وہ چوڑائی میں اس طرح پھیل جائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1094) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
مسلمان پر جو چیزیں واجب ہیں، ان میں سے ایک اہم واجب یہ ہے کہ وہ اپنی عبادات کا خوب خیال رکھے، یعنی عبادات کے اوقات کی معرفت حاصل کرے جن میں انھیں ادا کیا جاتا ہے۔ انھی اوقات میں سے ایک رمضان المبارک میں مفطرات سے رُکنے کا وقت ہے جس پر روزے کے آغاز اور اختتام کا مدار ہے۔ اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اہم اُمور پر متنبہ فرمایا ہے جن کا تعلق سحری اور مفطرات سے رکنے کے وقت کے ساتھ ہے۔
اوّل یہ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھایا جائے کیونکہ وہ فجرِ صادق کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دیتے تھے۔ چناں چہ ان کی اذان کا مقصد مفطرات سے رک جانے کے وقت کا اعلان نہیں تھا، بلکہ سوئے ہوئے لوگوں کو جگانا اور نمازیوں کو وقت کے قریب ہونے کی اطلاع دینا تھا۔
البتہ مفطرات سے رک جانے کا حقیقی وقت تب شروع ہوتا ہے جب حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے۔ اور وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا: «آپ صبح کے وقت میں داخل ہوگئے ہیں، آپ نے صبح کرلی ہے۔» یعنی فجرِ صادق طلوع ہوگئی ہے۔
دوم یہ کہ اُفق میں شروع والى سفیدى جو آسمان كى طرف بلند ہوتى ہوئى ظاہر ہوتی ہے، اُس سے بھی دھوکا نہ کھایا جائے۔ اسے ’’فجرِ کاذب‘‘ کہا جاتا ہے اور عرب اسے ’’ذَنَب الِسرحان‘‘ یعنی بھیڑیے کی دم سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ اس کی روشنی عمودی ہوتی ہے، پھیلی ہوئی نہیں۔
البتہ ’’فجرِ صادق‘‘ وہ ہے جس میں سفیدی مشرق کی جانب اُفق میں چوڑائی میں پھیل جاتی ہے اور یہی نمازِ فجر کے وقت کے آغاز اور روزے کے شروع ہونے کی علامت ہے، چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حتیٰ کہ وہ چوڑائی میں پھیل جائے۔» یعنی اس کی روشنی اُفقی طور پر پھیل جائے۔
اس حدیث مبارک میں فجرِ کاذب اور فجرِ صادق کے دقیق فرق کی نہایت بلیغ وضاحت کی گئی ہے اور یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مفطرات سے رُکنا نہ تو پہلی اذان سے لازم آتا ہے اور نہ صرف آسمان کی سفیدی دیکھ لینے سے، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب فجرِ صادق کی روشنی اُفقی طور پر پھیل جائے۔ مزید یہ کہ حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں فجر کے لیے دو اذانیں دی جاتی تھیں؛ ایک متنبہ کرنے کے لیے اور دوسری وقتِ فجر کے شروع ہونے پر۔
اسی طرح اس حدیث میں شریعتِ اسلامیہ کی نرمی اور عبادات کے نظام الاوقات کی حفاظت وتعین میں آسانی کی تاکید ہے۔