بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں فرمایا: صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ!»


یہ حدیث بروایت حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 17152)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2344) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2163) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7043) اور صحیح ابوداود (حدیث نمبر 2030)


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے ربّ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ لازم ہے کہ مسلمان اس کے احکام وسنن سے واقف ہو، تاکہ اس کے عمل کا اجر کئی گنا بڑھ جائے۔ انھی احکام میں سے ایک حکم سحری کا کھانا ہے جو موکد سنت ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے اختیار فرمایا اور اس کی طرف بلایا کیونکہ اس میں برکت بھی ہے اور یہ عبادت پر معاون ومددگار بھی ہوتی ہے۔
اور اس حدیث مبارک میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ ہمیں بتارہے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان میں انھیں سحری کے لیے یوں بلایا تھا: «صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔» یعنی سحری کی طرف آؤ اور اس بابرکت کھانے میں شریک ہوجاؤ۔
سحری کو ’’صبح کا مبارک کھانا‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں دن بھر کے روزے کے لیے تقویت کا سامان ہوتا ہے، نیز سحری کا یہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا موقع غنیمت ہوتا ہے اور اس میں بکثرت استغفار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اسی وقت بیدار ہوکر اور طہارت حاصل کر کے نمازِ فجر کی تیاری ہوتی ہے۔ چونکہ عربوں کے ہاں ’’غداء‘‘ کا آغاز فجرِ ثانی سے ذرا پہلے کے وقت سے ہوتا ہے، چنانچہ اس پر اس نام کا اطلاق موزوں ہے۔
سحری میں اہلِ کتاب کی مخالفت بھی ہے کیونکہ وہ سحری نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں اس کی پابندی کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے۔
اس حدیث مبارک میں اس بات پر دلالت ہے کہ سحری کرنا مستحب ہے، نیز اس میں تاخیر کرنا بھی مستحب ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث دوسروں کو سحری کی طرف بلانے کی فضیلت پر بھی دلالت کناں ہے کیونکہ اس سے بھائی چارے کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے اور سنتِ نبوی کا اِحیا بھی ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔