جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«برکت تین چیزوں میں ہے: جماعت میں، ثرید میں اور سحری میں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت سلمان رضی اللہ عنہ معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 6127) اور شعب الایمان بیہقی (حدیث نمبر 7114) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 2882) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1065) ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ برکت تین چیزوں میں ہے۔ لفظِ ’’برکت‘‘ لغت میں بڑھوتری اور نشوونما کے معنی میں ہے۔ جب یہ لفظ شرعی نصوص میں آتا ہے تو اس سے دین کی سلامتی، حساب کی آسانی اور آخرت میں نشوونما کی کثرت مراد ہوتی ہے۔
اس حدیث مبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ برکت تین امور میں جلوہ گر ہوتی ہے:
اوّل: «جماعت میں۔» یعنی نماز باجماعت، مسلمانوں کی باہمی اجتماعیت اور ایسے تمام کاموں میں جو ان کے نفع اور اتحاد کا باعث ہوں۔ علاوہ ازیں کھانے پر اکٹھا ہونا بھی اسی بھی شامل ہے۔ باہمی قوت وتعلق قائم ہونا، دلوں میں رحمت واُلفت کا پیدا ہونا، رزق میں کشادگی، معاشی کفایت اور خیر کے دیگر اُمور، یہ سب جماعت کی برکات میں شامل ہیں۔
دوم: «ثريد میں۔» یعنی وہ کھانا جس میں روٹی کے ٹکڑوں کو گوشت کے شوربے میں ملایا جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں خود گوشت بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کھانے کی برکت یہ ہے کہ یہ غذائیت سے بھرپور، نرم وسہل ہضم، جلد سیر کرنے والا، لذیذ ذائقے والا اور آسانی سے تناول کیا جانے والا کھانا ہے جو بھوک مٹاتا اور جسم کو طاقت بخشتا ہے۔
سوم: «سحری میں۔» لفظ ’’سُحور‘‘ سین کی زبر یا پیش سے پڑھا جاتا ہے۔ زبر سے پڑھا جائے تو مراد وہ کھانا یا پینا ہے جو سحری کے وقت کھایا پیا جاتا ہے۔ پیش سے پڑھا جائے تو مراد نفسِ فعل (سحری کرنا) ہے۔ سحری کرنا سنت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود سحری کی، بلکہ اس کی ترغیب بھی دی، کیونکہ اس میں بہت سی برکات ہیں، مثلاً: روزے پر مدد، مشقت میں تخفیف، نفس میں نشاط، عبادت کا شوق بڑھانا، سنت کی پیروی، اہلِ کتاب کی مخالفت، وقتِ سحر کی ساعتوں کا موقع غنیمت ہونا اور خیر وفضل کے دیگر بہت سے پہلو۔
یاد رہے کہ حدیث سے یہ مراد نہیں ہے کہ برکت ان تین چیزوں ہی میں محصور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی برکات کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ ان تین چیزوں کا ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ ان میں برکت کا اثر سب سے نمایاں اور نفع عام ہے۔ چنانچہ ’’اجتماع‘‘ اُلفت وتعاون کا ذریعہ ہے، ’’ثرید‘‘ ایک ایسی غذا کی مثال ہے جو نفع مندی اور سہولت کی جامع ہے اور ’’سحری کھانا‘‘ طاعت وعبادت پر معاونت کا سبب ہے۔ ان تینوں کا ذکر دراصل دیگر مظاہرِ برکت کی طرف رہنمائی اور اس حقیقت کی دلیل ہے کہ برکت ہر اُس چیز میں مضمر ہے جس میں نفع، خیر اور طاعت پر اجتماع پایا جاتا ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔