«لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انھیں نظر نہ آیا) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سنن ابوداود (حدیث نمبر 2342)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3447)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1541) اور سنن دارمی (حدیث نمبر 1733) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 2028) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 908) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نئے چاندوں کی تخلیق اور ان میں بندوں کے لیے جو مصالح وفوائد رکھے گئے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی روشن نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ان میں سب سے عظیم الشان فائدہ مختلف عبادات کے اوقات کی پہچان ہے، جیسے: روزہ، زکات، حج، کفّارات وغیرہ۔
اس حدیث شریف میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلالِ رمضان کی تلاش کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ ماہِ صیام کا آغاز معلوم ہوسکے۔ اور یہی مفہوم ہے الفاظِ روایت «لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی» کا، یعنی لوگ چاند دیکھنے کے لیے جمع ہوئے اور سب رؤیتِ ہلال میں شریک ہوئے، گویا ہر شخص اپنے ساتھی سے کہہ رہا ہو کہ ’’چاند دیکھو‘‘ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور بات۔
پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے تنہا رمضان کا چاند دیکھا اور آ کر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ انھوں نے چاند دیکھ لیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رؤیت پر اعتماد کرتے ہوئے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
اس واقعے میں یہ دلیل ہے کہ رمضان کے چاند کی رؤیت خیر وصلاح کے ساتھ معروف ایک شخص کی گواہی سے بھی ثابت ہوجاتی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خبر پر ماہِ رمضان کے آغاز کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اس مسئلے میں یہی حديث اصل (یعنی بنیادی دلیل)ہے۔
علاوہ ازیں اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ ماہِ رمضان کا روزہ چاند کی رؤیت سے ثابت ہوتا ہے، نہ کہ (فلکیاتی) حساب کتاب سے!