«مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 2345)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3475)، سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 8197) اور مسند بزار (حدیث نمبر 8550) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 562) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1072) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
پنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں عظیم الشان اور اس کے عطیے نہایت جلیل القدر ہیں۔ اُن نعمتوں میں سے، جو اس نے انھیں ان کے کھانے پینے میں عنایت فرمائیں، سب سے نمایاں نعمت کھجور ہے جس کا ذکر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بطورِ خاص فرمایا اور سحری میں اس کی فضیلت کو واضح کیا کہ یہ سب سے افضل سحری ہے کیونکہ اس میں برکت، ہلکاپن اور زود ہضم ہونے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ لفظ «نِعْمَ» مدح کے صیغوں میں سے ہے، چنانچہ سحری بذاتِ خود برکت ہے اور کھجور کے ساتھ اس کو خاص کرنا بھی برکت ہے تو یوں اس میں دو عظیم الشان برکتیں جمع ہوگئیں اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع پر اجرِ جزیل بھی ہے۔
’’سَحُور‘‘ سین کی زبر کے ساتھ نام ہے اُس کھانے پینے کا جس سے سحری کی جاتی ہے۔ سین کی پیش کے ساتھ مراد خود عملِ سحری ہے۔
حدیث مبارک میں کھجور کے ساتھ سحری کرنے کی فضیلت ہے اور یہ اس چیز کا بیان ہے کہ کھجور ایک بابرکت غذا ہے جو روزے دار کے لیے عبادت پر معاون ہے اور حلاوت وطاقت کو یکجا کرتی ہے۔