جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے آپ کو وفات دے دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اعتکاف کیا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 2026) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1172) میں مروی ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: «نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اُس عمل کے شدید خواہش مند ہوا کرتے تھے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے یکسو اور دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش رہتے۔ اور اسی میں سے رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشگی ہے جو لیلۃ القدر کو پانے کی تلاش ہوتی تھی، جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے آپ کو وفات دے دی۔»
اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ مسجد میں قیام اختیار کرنا، خود کو عبادت کے لیے فارغ کرنا، ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا، تلاوتِ قرآن، دعا، اِستغفار اور ہر وہ عمل جو اللہ تعالیٰ کے قریب کردے۔ یہ سنتِ موکدہ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہمیشگی ومواظبت اختیار فرمائی تھی، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے کو اعتکاف کے لیے اس لیے خاص فرمایا کہ یہ مہینے کا اختتام ہے اور اسی میں لیلۃ القدر کے ملنے کی امید زیادہ ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
یہاں ’’عشر‘‘ (دس) کا لفظ تغلیب کے طور پر ہےکیونکہ مہینا کبھی ناقص (تیس سے کم) ہوتا ہے، اس لیے اسے تغلیباً «عشر» (دس) کہا گیا ہے۔
حدیث مبارک میں یہ وضاحت ہے کہ اعتکاف کی مشروعیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی باقی رہی اور یہ منسوخ نہیں ہوا۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بلانکیر اعتکاف کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ رکھنے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی ہدایت کی اتباع کے لیے تھا۔
حدیث مبارک میں دلیل ہے کہ عورتیں بھی مسجد میں اعتکاف کرسکتی ہیں، بشرط کہ عورتیں شرعی حدود کی پابندی کریں اور ان کے اعتکاف سے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، ورنہ انھیں روک دیا جائے گا۔
اسی طرح حدیث مبارک میں رمضان کے آخری عشرے کی عظمت اور فضیلت کا بیان ہے کیونکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی ایام کو اعتکاف کے لیے مخصوص فرمایا تھا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔