بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ بیمار کی عیادت کو نہ جائے، نہ کسی جنازے میں شریک ہو، نہ کسی عورت کو ہاتھ لگائے، نہ اس سے مباشرت کرے اور نہ کسی ضرورت کے لیے مسجد سے نکلے، مگر اُس ضرورت وحاجت کے لیے جس کا پورا کرنا ناگزیر ہو۔ نیز اعتکاف صرف روزے کے ساتھ ہے اور اعتکاف صرف جامع مسجد ہی میں ہوگا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سنن ابوداود (حدیث نمبر 2473) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح ابوداود (حدیث نمبر 2135) ۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


اعتکاف ایک عظیم الشان عبادت ہے جس میں بندہ اپنے رب سے خلوت اختیار کرتا ہے، دنیا کے مشاغل سے کنارہ کش ہو کر صرف اس کی عبادت میں منہمک رہتا ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اس عبادت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
اس حدیث میں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن اہم آداب واحکام کو واضح فرمایا ہے جن کی پابندی معتکف (اعتکاف کرنے والے) کے لیے ضروری ہے، تاکہ اعتکاف کی روح اور اس کے مقصود کو برقرار رکھا جاسکے۔
چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول «معتکف کے لیے سنت یہ ہے ... الخ» کا مطلب یہ ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور وہ آداب وضوابط جن پر معتکف کو کاربند رہنا چاہیے، یہ ہیں کہ وہ مریض کی عیادت کے لیے نہ نکلے، کسی جنازے میں شریک نہ ہو اور کسی ایسے کام کے لیے مسجد سے باہر نہ جائے جو ناگزیر نہ ہو کیونکہ یہ سب اُمور اعتکاف کے اس مقصد کے منافی ہیں جو مسجد میں ٹھہرنے اور عبادت کے لیے گوشہ نشینی پر قائم ہے۔
اسی طرح معتکف کے لیے اپنی بیوی سے مجامعت کرنا، یا جماع کے بغیر شہوت کے ساتھ اسے چھونا بھی جائز نہیں کیونکہ اعتکاف ایسی عبادت ہے جو نفسانی لذتوں اور خواہشات سے کٹ جانے کا تقاضہ کرتی ہے، چنانچہ اگر کسی نے دورانِ اعتکاف اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو اجماعِ امت کے مطابق اس کا اعتکاف باطل ہوجائے گا۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول: «اعتکاف صرف روزے کے ساتھ ہے» کامفہوم یہ ہے کہ بغیر روزے کے اعتکاف درست نہیں، لیکن مراد یہ نہیں، بلکہ اس جملے کا ذکر اعتکاف کے کمال اور اس کے اجر وفضیلت کے بیان کے لیے ہوا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے دس دنوں میں بھی اعتکاف فرمایا تھا اور یہ کہیں منقول نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران روزہ رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ یہ دلیل ہے کہ اعتکاف کے درست ہونے کے لیے روزہ شرط نہیں ہے، اگرچہ روزے کے ساتھ اعتکاف کرنا مستحب عمل ہے کیوں کہ یہ افضل ہے اور زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان: «اعتکاف صرف جامع مسجد ہی میں ہوگا۔» کا معنى یہ ہے کہ اعتکاف صرف مسجد ہی میں درست ہوگا، چنانچہ گھر میں یا کسی ’’مصلیٰ‘‘ (نماز پڑھنے کی جگہ) میں اعتکاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ مسجد کے علاوہ کوئی جگہ عبادت کی اصل جگہ نہیں ہے تو اسی لیے اعتکاف کے درست ہونے کے لیے مسجد کا ہونا شرط ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور اس حال میں کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کرنے والے ہو۔‘‘ (البقرۃ: 187)
اس مسئلے پر علمائے کرام کا اجماع ہے، اگرچہ بعض لوگوں نے وسعت اختیار کرتے ہوئے عورت کو اپنے گھر کے کسی مخصوص حصے میں اعتکاف کی اجازت دے رکھی ہے!
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا«جامع مسجد میں» یعنی ایسی مسجد میں جہاں پنجگانہ نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہوں اس بنا پر ہے کیونکہ جس مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہو تو اس پر حقیقی معنوں میں ’’مسجد‘‘ کا لفظ صادق نہیں آتا۔ اور اس لیے بھی کہ اس صورت میں معتکف کو باربار نماز پنجگانہ کے لیے باہر جانا پڑے گا، جب کہ یوں بکثرت باہر نکلنا اعتکاف کے مقصد، یعنی مسجد میں قیام اور عبادت میں ہمہ وقت مشغولیت کے خلاف ہے۔
چنانچہ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اعتکاف ایسی عبادت ہے جو مسجد میں ٹھہرنے اور ان اُمور کو ترک کرنے سے مخصوص ہے جو عبادت سے غافل کرتے ہیں، تاکہ اُن چند دنوں کے لیے نفس اللہ کے لیے صاف اور خالص ہوجائے جو دل کو زندہ کرتے اور اسے اس کے خالق کے قریب کردیتے ہیں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔