بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزے ہوں گے کیوں کہ جو ایک نیکی لائے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس اور ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 22412)، سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 2874) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1715) میں مروی ہے۔ (الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں) الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں۔
البتہ سنن کبریٰ نسائی کے الفاظ یوں ہیں: «اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کو دس گنا کردیا، چنانچہ ایک مہینا (رمضان کا) دس مہینوں کے برابر ہوا اور عیدالفطر کے بعد کے چھ دن ملا کر پورا سال ہوگیا۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6328) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1007)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ نیکی اور عبادت میں تسلسل ومداومت رکھتے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عبادت مکمل فرماتے تو اس کے بعد دوسری عبادت اختیار کرتے۔ انھی عبادات میں روزے پر ہمیشگی ومداومت بھی شامل ہے جو سب سے عظیم اور اجر کے لحاظ سے بلند مرتبت عبادات میں سے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے اور مہینے میں نفلی روزے رکھتے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ان کی ترغیب دیتے تھے۔
اس حدیثِ مبارکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے کیونکہ ان کا اجر نہایت عظیم الشان ہے۔ یہ چھ روزے رکھنے والا گویا پورے سال کے روزے رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے، چنانچہ رمضان کے ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر ہوئے اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر تو یوں کل بارہ مہینے ہوئے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جو ایک نیکی لایا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں۔‘‘ (الانعام: 160)
یہ درحقیقت اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کے مظاہر میں سے ہے کہ اس نے تھوڑے عمل پر بھی بہت زیادہ اَجر وثواب عطا فرمایا ہے۔
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان چھ روزوں کا خوب اہتمام کرے، خواہ یہ روزے مسلسل رکھے یا چھوڑ چھوڑ کر، مہینے کے آغاز میں رکھے، درمیان میں رکھے یا آخر میں۔ البتہ جلدی رکھ لینا افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’نیکیوں میں سبقت کرو۔‘‘ (البقرۃ: 148) اور اس لیے بھی کہ بندہ نہیں جانتا کہ آئندہ کیسے حالات اسے پیش آجائیں۔
اور اگر کسی کے ذمے رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہو تو افضل یہ ہے کہ پہلے قضا ادا کرے، پھر شوال کے چھ روزے رکھے۔ لیکن اگر مشکل ہو تو اس کے لیے پہلے چھ روزے رکھنا بھی جائز ہے، اگرچہ قضا کو مقدم کرنا زیادہ افضل اور محتاط عمل ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔