بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«زکات روکنے والا روزِ قیامت آگ میں ہوگا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ معجم صغیر طبرانی (حدیث نمبر 935) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5807) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 762) ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


زکات اسلام کے عظیم ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ یہ اپنی شرائط کے ساتھ ہر مسلمان پر واجب ہے، اس لیے خوشدلی اور اخلاصِ نیت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے، تاکہ وہ اپنے دین کے اس رکن کو قائم کرےاور اللہ تعالیٰ کے ہاں اجرِ عظیم کا مستحق بنے۔ جو لوگ زکات ادا نہیں کرتے، ان کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت اپنے فرمان میں خبر دی ہے: «زکات روکنے والا قیامت کے دن آگ میں ہوگا۔»
درحقیقت زکات روکنا کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔ اسے روکنے کی کئی صورتیں ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص زکات کے وجوب ہی کا انکار کرتے ہوئے اسے ادا نہ کرے، حالانکہ وہ مسلمانوں کے درمیان رہ رہا ہو تو یہ ایسا کفر ہے جو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا ہے کیونکہ اس نے اسلام کے ایک ایسے رکن کا انکار کیا ہے جو دین میں بدیہی طور پر معلوم ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کو پہلے توبہ کا موقع دیا جائے۔ اگر توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ قتل کردیا جائے۔ اگر منکرِ زکات قوت وطاقت رکھتا ہو تو حکمرانِ وقت اس کے خلاف قتال کرے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے ساتھ کیا تھا۔ اگر کوئی شخص بخل یا سستی کے باعث زکات روک لے باوجود اس کے کہ وہ وجوبِ زکات کا اقرار کرتا ہو تو ایسی صورت میں اس سے زبردستی زکات وصول کی جائے گی۔ مزید برآں اس کے مال کا نصف حصہ بطورِ تعزیر لے لیا جائے گا، جیساکہ صحیح حدیث میں وارد ہے۔ اگر کوئی شخص جہالت کے باعث زکات نہ دے، مثلاً: وہ نومسلم ہو، یا مسلمانوں سے دُور کسی صحرا میں پلابڑھا ہو تو اس کی لاعلمی کا عذر قبول کیا جائے گا اور اسے سکھایا جائے گا۔
جیسے زکات روکنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، ویسے ہی اسے غیرشرعی مصارف میں خرچ کرنے کا معاملہ ہے۔ دونوں اعمال پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔