بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1923) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1095) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ اُن عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے جن کا اسلام نے اہتمام کیا ہے، چنانچہ اسلام نے وہ تمام اسباب مشروع کیے ہیں جو اس عبادت کو بہتر طور پر ادا کرنے کے لیے ممد ومعاون ہیں۔ انھی اسباب میں ایک اہم سبب سحری ہے، جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔» اور یہ سحری کھانے کا حکم ہے۔
’’سحور‘‘ سے مراد وہ کھانا ہے جو بوقتِ سحر روزہ رکھنے والا تناول کرتا ہے۔ اس میں برکت ہے کیونکہ یہ سراسر خیر ہے، چنانچہ یہ عبادت کے لیے مددگار ہے، روزے کی حالت میں قوت واستقامت بخش ہے اور دن بھر نشاط وتوانائی بخشتا ہے۔ اسی طرح سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی واتباع ہے، اس میں اہلِ کتاب کی مخالفت ہے اور ساتھ ہی بوقتِ سحر فائدہ اُٹھانے کا موقع ملتا ہے جو کہ ذکر ودعا اور استغفار کا وقت ہے، چنانچہ اسی لیے سحری کو دین ودنیا، ہر دو اعتبار سے باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے۔ علماء کے اجماع کے مطابق سحری کھانا سنتِ موکدہ ہے، اس لیے ایک مسلمان کو اسے ترک نہیں کرنا چاہیے، خواہ ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔