جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات قدر کی رات ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «پڑھو: اے اللہ! تُو عفو ودرگزر کرنے والا ہے اور عفو ودرگزری کو تُو پسند کرتا ہے، اس لیے مجھ سے عفو ودرگزر فرما۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 26215)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 3513) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 3850) میں مروی ہے۔ مذكوره الفاظ سنن ترمذى کے ہیں۔
مسند احمد اور سنن ابن ماجہ کے الفاظ یوں ہیں: «آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے۔»
نیز ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 3337) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 3391) ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


لیلۃ القدر سال کی تمام راتوں میں سب سے بلند قدر ومنزلت والی رات ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ شرف وعظمت کی حامل ہے۔ یہ ایسی بابرکت رات ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے رفعتِ شان عطا فرمائی اور عظیم فضائل وبرکات سے نوازا ہے۔ ان میں سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ خیر ونیکی کے شدید طلب گار اور طاعت وبندگی میں نہایت سبقت لے جانے والے تھے، چنانچہ وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے اعمال کے بارے میں دریافت کرتے رہتے تھے جو انھیں اللہ کی رضا وخوشنودی کے قریب کردیں، تاکہ فضلِ الٰہی حاصل ہو، اجر وثواب میں اضافہ ہو اور اس بابرکت رات کی روحانی ہواؤں سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ اسی جستجو کی ایک کڑی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ سوال ہے جو انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہ اگر وہ لیلۃ القدر کو پا لیں تو کون سی دعا کریں۔
چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس عظیم دعا کی تلقین فرمائی، تاکہ شبِ قدر میں یہ مومن کا روحانی زادِ راہ بن جائے۔ یہ دعا الفاظ کے اعتبار سے مختصر، مگر خیر وبھلائی کا ایک جہاں آباد کیے ہوئے ہے کیونکہ اس میں بندہ اپنے رب کی صفتِ عفو ودرگزری کا اقرار کرتا ہے اور اس سے اس کی مغفرت ورحمتِ واسعہ کا سوال کرتا ہے۔ اس دعا کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے رب تعالیٰ کے عفو ودرگزری کے لیے اپنی عاجزی ومحتاجی اس اُمید پر ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دے، دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اس سے عذاب ہٹالے۔ یہ دُعا دنیا وآخرت کی تمام بھلائیوں کو سمیٹے ہوئے ہے، چنانچہ یہ دعا تذلل، اُمید ورجا اور فضلِ الٰہی کی جامع ہے کیونکہ یہ عفو ومغفرت کا سوال ہی وہ سب سے بڑا مقصد ہے جو ربِ کریم سے مانگا جاتا ہے، چنانچہ عفو ہی سے گناہ مٹتے ہیں اور سعادت وفلاح نصیب ہوتی ہے۔ اس لئے یہ دعا لیلۃ القدر، جس میں قبولیت اور مغفرت کی امید کی جاتی ہے، کی سب سے عظيم دعاؤں میں سے ایک ہے ۔
حدیث مبارک میں اس دعا کی فضیلت، تطہیرِ نفس اور حیاتِ قلب پر اس کے گہرے اثرات کا بیان ہے، نیز اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علم وعمل کے لیے شدید رغبت اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کو مغفرت اور رضائے الٰہی کے قریب کرنے کی شدید خواہش ظاہر ہوتی ہے۔
اسی طرح حدیث میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام کا اثبات ہے، یعنی ’’العفو‘‘۔ علاوہ ازیں عمل کی جدوجہد کے بعد قبولیت کی اُمید رکھتے ہوئے عفو (بخشش) مانگنے کا استحباب بھی معلوم ہوا۔
مزید برآں حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ لیلۃ القدر کا پتا چلنا ممکن ہے، جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال «اگر مجھے شبِ قدر معلوم ہوجائے» اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے ظاہر ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔