بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا روزے دار بوسہ لے سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب دیا: «اس سے پوچھ لو۔» یعنی حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے۔ تو انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے ہیں۔ تو انھوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر چکا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «سنو اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ کے تقوى کےساتھ متصف ہوں اور تم سب سے زیادہ اس كى خشيت رکھنے والا ہوں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1108) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعلیم اور ان کے سوالات کے جواب عطا کرنے میں سب سے عمدہ انداز اختیار فرماتے تھے۔ اسی کی ایک خوبصورت مثال حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’ربیب‘‘ (پروردۂ خانۂ نبوت/پہلے خاوند سے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے) تھے۔ انھوں نے سوال کیا: «کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اس سے پوچھو۔» یعنی اپنی والدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے۔ تو انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے ہیں۔
یہ واقعہ نبوی حسنِ تعلیم کا مظہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے حال کا لحاظ رکھا اور نہایت لطافت کے ساتھ اس کی رہنمائی اس کی طرف فرمائی جو اسے واقعاتی جواب دے سکے، تاکہ بات زیادہ دلنشین اور وضاحت مزید بلیغ وموثر ہو۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس کی حکمت سمجھ گئیں، چنانچہ انھوں نے واقعہ کا ذکر کردیا، لیکن صریح فتویٰ نہ دیا۔ مقصود اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی پیروی ہی اس مسئلے کے حکم کے لیے کافی ہے۔
روزے دار کا بوسہ لینا کوئی عبادت نہیں ہے کہ جس کا مقصود تقربِ الٰہی ہو، بلکہ یہ ایک فطری امر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے کی حالت میں ایسا کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے، اس کے ندب واستحباب کی نہیں۔ جمہور علماء کے مطابق یہ عمل فرضی اور نفلی روزوں میں جائز ہے، خواہ جوان ہو یا بوڑھا۔ روزہ اسی صورت میں فاسد ہوگا جب انزال ہوجائے۔ البتہ جو شخص اندیشہ رکھتا ہو کہ وہ اس سے کسی محظور وممنوع کام میں پڑ جائے گا تو اس کے لیے بوسہ نہ لینا ہی بہتر اور زیادہ محتاط عمل ہے۔
جب حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: «یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔» تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقتِ حال کو یوں واضح فرمایا: «سنو اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ كا تقوى اختيار کرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس كى خشيت میں كامل ہوں۔» یعنی مغفرت کا حاصل ہونا بندے کو مقامِ عبودیت سے خارج نہیں کرتا اور نہ بندے کو شرعی تکالیف (پابندیوں) سے آزاد کرتا ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خشیت اور تقوے میں سب سے کامل واعلیٰ ہیں!
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو روزے کی حالت میں بوسہ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے نہیں تھا، بلکہ امت کے لیے بھی مشروع وجائز عمل ہے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کبیرہ گناہوں اور اُن تمام اُمور سے معصوم ومحفوظ تھے جو اُن کے مقامِ رسالت میں عیب جوئی، یا ان کی قدر ومنزلت میں کمی کا باعث ہوسکتے تھے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔