جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجیے جسے میں آپ سے پکڑ لوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابواُمامہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 22149)، سنن نسائی (حدیث نمبر 2220) اور صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3425) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن نسائی کے ہیں۔
مسند احمد کے الفاظ یوں ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ فرمایا: «اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔» پھر میں دوسری بار حاضرِ خدمت ہوا تو مجھے یہی فرمایا: «روزے کو اپنے اوپر لازم رکھو۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4044) اور صحیح سنن نسائی (حدیث نمبر 2097-2010) ۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلند ہمت شخصیات تھے۔ وہ ایسے افضل اعمال کی معرفت کے شدید خواہش مند رہتے جو انھیں اللہ تعالیٰ کا مقرب بنادے۔ انھی میں سے ایک حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ انھیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس پر وہ ہمیشہ کاربند رہیں اور جس سے انھیں اللہ کا قرب حاصل ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تم روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کی مثل کوئی نہیں۔» یعنی روزے کو لازم پکڑو اور اس کی کثرت کرو کیونکہ یہ وہ عظیم عبادت ہے جو بندے میں اخلاص، خواہشاتِ نفس پر قابو، نفس کی پاکیزگی اور ارادے کی قوت کو یکجا کردیتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «اس کی کوئی مثل نہیں» یعنی کوئی دوسری عبادت دل پر روزے کی اثرپذیری جیسا مقام نہیں رکھتی اور نہ اُس اجر وثواب کے برابر ہوسکتی ہے جو روزے دار کو ملتا ہے کیونکہ روزہ انسان کو اللہ کی طرف یکسو کرتا ہے، لغویات اور معصیت سے بچاتا ہے، شیطان کے تسلط کو کمزور کرتا ہے اور طاعت ونیکی پر بندے کے ارادے کو مضبوط بناتا ہے۔ البتہ اس حدیث سے یہ مفہوم نہیں لینا چاہیے کہ روزہ تمام عبادات سے مطلق طور پر افضل ہے کیونکہ ہر عبادت اپنے اثر، وقت اور عبادت گزار کی حالت کے لحاظ سے اپنی الگ قدر ومنزلت رکھتی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سی عبادات ایسی ہیں جن کی بابت دیگر نصوص واضح کرتی ہیں کہ وہ روزے سے افضل ہیں، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ نماز اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اعمال میں سے ہے۔ اسی طرح والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور جہاد فی سبیل اللہ قربتِ الٰہی کے اعلیٰ اسباب میں سے ہیں۔ پس یہ احادیث راہنمائی کے تنوع کی مثال ہیں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کی حالت، صلاحیت اور روحانی ضرورت دیکھ کر اسے سب سے مناسب عمل کی ہدایت فرماتے تھے، چنانچہ بسااوقات کوئی عمل کسی ایک شخص کے لیے افضل ہوتا ہے، جب کہ وہی عمل کسی دوسرے شخص کے لیے افضل نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی عمل کسی وقت میں افضل ہوتا ہے، جب کہ وہی عمل کسی دوسرے وقت میں افضل نہیں ہوتا۔ جس طرح طبیب ایک ہی بیماری میں مختلف مریضوں کے لیے مختلف دوائیں تجویز کرتا ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابواُمامہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طبیعت اور روحانی حالت کے مطابق سب سے نافع عمل کی تلقین فرمائی، چنانچہ اس ہدایت کا اثر یہ ہوا کہ حضرت ابواُمامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہلِ خانہ ہمیشہ روزوں کے پابند رہے، یہاں تک کہ ان کے گھر میں دن کے وقت دھواں صرف اس وقت نظر آتا جب ان کے یہاں کوئی مہمان آجاتا۔
اس حدیث میں روزے کی فضیلت اور نفس پر اس کے عظیم الشان تربیتی اثرات کا بیان ہے۔ اور یہ کہ روزہ ان جلیل القدر عبادات سے ہے جس کے برابر کوئی عمل نہیں کیونکہ اس میں صبر، اخلاص، خواہشاتِ نفس سے مجاہدہ اور اجر کے کئی گنا بڑھنے جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں۔


غلطی کی اطلاع دیں۔