«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے تو فجرکی نماز پڑھتے، پھر اپنی اعتکاف گاہ میں داخل ہوتے۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا تو خیمہ لگا دیا گیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا تو وہ بھی لگا دیا گیا۔ اور دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے بھی اپنے خیمے لگانے کا حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمے نصب کردیے گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ کر دیکھا تو بہت سے خیمے نظر آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا تمہاراارادہ نیکی کا ہے؟» تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب آپ کا خیمہ ہٹا دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کا اعتکاف ترک کردیا، حتیٰ کہ ماہِ شوال کے پہلے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 2033) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1172) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے سب سے زیادہ خواہش مند تھے۔ انھی عبادات میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمانا تھا، تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لیے خلوت اختیار کریں اور بکثرت ذکر ودعا میں مشغول رہیں، تاکہ شبِ قدر کی فضیلت حاصل کرلیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اون یا بالوں کا خیمہ نصب کردیا کرتی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز ادا فرما کر اپنی اعتکاف گاہ، یعنی اپنے اس خیمے میں داخل ہوجاتے جو ان کے لیے مسجد کے اندر تیار کیا جاتا تھا۔ جب امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بھی اعتکاف کا شوق ہوا تو حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما نے (جیساکہ ایک روایت میں آیا ہے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے لیے بھی ایک چھوٹا سا خیمہ لگوالیں؟ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اجازت دے دی۔ پھر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بھی خیمہ نصب کروادیا، چنانچہ مسجد میں متعدد خیمے لگ گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب دیکھا تو فرمایا: «کیا تمہارا ارادہ نیکی کا ہے؟» یعنی کیا ایسا کرنے سے تمھارا مقصد خالص عبادت اور طاعت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات انکار اور تنبیہ کے لہجے میں ارشاد فرمائی تھی اور اندیشہ یہ تھا کہ کہیں اس رغبت کی بنیاد محض اخلاصِ نیت کی بجائے غیرت یا باہمی مسابقت نہ ہو۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے کو اکھاڑنے کا حکم دیا اور مصلحت کے پیشِ نظر اس سال ماہِ رمضان میں اعتکاف ترک فرما دیا اور یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں مسجد تنگ نہ پڑجائے، یا عورتوں کا آناجانا مَردوں سے اختلاط کا باعث نہ بن جائے، یا اعتکاف کا اصل مقصد، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے انقطاع اور خلوت ہی نہ فوت ہوجائے۔ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ شوال کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا، تاکہ جو عمل رہ گیا تھا، اس کی قضا ہوجائے اور طاعت وعبادت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مداومت وہمیشگی کی سنت بھی قائم رہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ جب کوئی نیک عمل شروع کرتے تو اسے ہمیشہ جاری رکھتے۔
یہ حدیث اعتکاف کی مشروعیت پر واضح دلیل ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معتکف مسجد میں ایسی جگہ بناسکتا ہے جہاں وہ تنہائی میں عبادت کرے اور اگر ضرورت ہو تو وہاں خیمہ بھی نصب کرسکتا ہے، بشرط کہ اس سے دیگر نمازیوں کو تنگی نہ ہو۔
اسی طرح حدیث میں دلیل ہے کہ خواتین مسجد میں اعتکاف کرسکتی ہیں، بشرط کہ وہ پردے کا اہتمام کریں، البتہ ان کے لیے ان کی حفاظت اور فتنے سے بچاؤ کے پیشِ نظر اعتکاف ترک کرنا زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔
حدیث سے یہ دلیل بھی ملتی ہے کہ اگر مصلحت کا تقاضہ ہو تو اعتکاف شروع کرنے کے بعد اسے ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔
مزید یہ کہ افضل عمل کو کسی مصلحت کی بنا پر ترک کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو اپنے عمل میں ریا یا شہرت کا اندیشہ ہو تو وہ اسے چھوڑ سکتا ہے۔ اسی طرح حدیث سے سمجھ آتا ہے کہ غیرتِ مذمومہ جو مسابقت، حسد، یا دکھاوے کی طرف لے جاتی ہے، انسان کو خیر سے محروم اور افضل اعمال سے غافل کرسکتی ہے۔