جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«مہاجر اپنے مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 3933) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1352) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
صحیحین کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: «...منیٰ سے لوٹنے کے بعد۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر سختی وآزمائش شدت اختیار کرگئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی، چنانچہ اہلِ ایمان نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے گھربار اور مال ومتاع چھوڑ دیے اور ہجرت کرگئے، چنانچہ یوں انھوں نے ہجرت کی بدولت اجرِ عظیم حاصل کیا۔
پھر جب مکہ فتح ہوا اور مہاجرین وہاں واپس آئے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت نہ دی کہ وہ وہاں تین دن سے زیادہ قیام کریں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مہاجر اپنے مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہرے۔» یعنی جو شخص فتحِ مکہ سے پہلے اللہ کے لیے یہاں سے ہجرت کر چکا ہے، پھر کسی حج، یا عمرہ، یا زیارت، یا تجارت کے لیے مکہ واپس آئے تو اس کا قیام اپنے مناسک سے فراغت کے بعد تین دن سے زیادہ نہ ہو، تاکہ اس کی ہجرت کا اجر قیامت تک برقرار رہے۔
اور ایک روایت میں یوں آیا ہے: «مہاجر کے لیے تین دن واپسی کے بعد» یعنی طوافِ وداع کے بعد۔ دراصل یہ ایک رخصت ہے کہ وہ اس میں اپنی ضرورت پوری کر کے اپنی جائے ہجرت واپس لوٹ جائے، تاکہ اسے یہ یاد رہے کہ اس نے یہ شہر اللہ کے لیے چھوڑا تھا، لہٰذا وہ اللہ کے چہرے کی خاطر اسے چھوڑنے کے بعد دوبارہ اس میں قیام پذیر نہیں ہوگا، تاکہ جب تک وہ اپنی نیت اور اللہ کے ساتھ وفاداری پر قائم رہے، اس کی ہجرت کا اجر بھی باقی رہے۔
تین دن کی حد اس لیے مقرر کی گئی کیونکہ جو اس سے زیادہ ٹھہرا، وہ مقیم شمار ہوگا۔ اور جو مکہ مکرمہ کو اللہ کے لیے چھوڑ کر پھر وہاں سکونت اختیار کرلے، گویا وہ اس چیز کی طرف واپس پلٹ آیا جسے اس نے اللہ کے لیے چھوڑا تھا۔ اور اصول یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑ دے، اس کی طرف اس کا لوٹنا جائز نہیں ہے، تاکہ اس کی نیت کی صداقت محفوظ رہے اور بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کی گئی اپنی ہجرت پر ثابت قدم رہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔