«میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے درمیان تیزی سے چلتے دیکھا اور آپ فرما رہے تھے: «وادی کو تو صرف دوڑ کر ہی پار کیا جاتا ہے۔»
یہ حدیث بروایت ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 27281) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2980) میں مروی ہے۔
مسند احمد (حدیث نمبر 27280) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 2987) کی ایک روایت یوں ہے: «نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا ومروہ کے درمیان تیزی سے چل رہے تھے۔»
نیز ملاحظہ صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7553، 7554) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2437) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
حج اور عمرہ کے ارکان میں سے ایک رکن صفا ومروہ کے درمیان سات چکروں کی سعی بھی ہے جو صفا سے شروع ہو کر مروہ پر ختم ہوتی ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے سعی کا طریقہ واضح فرمایا، جب کہ یہ بھی نبوی فرمان ہے: «مجھ سے اپنے مناسک لے لو۔»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مروہ کی طرف جانے کے لیے صفا سے اُترتے تو اطمینان اور وقار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ جب وادی کے درمیان پہنچتے (یہ وہ جگہ ہے جہاں آج کل دو سبز علامتیں ہیں) تو اپنی چال میں تیزی لے آتے، حتیٰ کہ قریب قریب دوڑنے کے انداز میں چلتے (اس سے مراد تیز تیز قدم چلنا ہے) اور ارشاد فرماتے: «وادی کو تو دوڑ کر ہی پار کیا جاتا ہے۔»
اس جگہ تیز تیز چلنا مَردوں کے لیے سنت ہے، عورتوں کے لیے نہیں، تاکہ ان کی حفاظت ہو اور فتنے کے اسباب کا تدارک ہو۔
جو مرد اِن دو سبز نشانوں کے درمیان تیز نہ چلے تو اس پر کچھ لازم نہیں کیونکہ یہ عمل سنت مستحبہ ہے نہ کہ واجب۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا ومروہ کے درمیان چلتے دیکھا، پھر انھوں نے فرمایا: ’’اگر میں چل رہا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلتے دیکھا ہے اور اگر میں تیزی سے چل رہا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیزی سے چلتے دیکھا ہے۔‘‘