پیر 4 صفر 1448 | 2026-07-20

A a

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ آخری دس دنوں میں ہے، یا پانچویں میں ہے، یا تیسری میں ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 22043)، معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 177) اور مسند شامیین (حدیث نمبر 1160) میں مروی ہے۔ مسند شامیین میں یہ اضافہ ہے: «آخری عشرے میں ساتویں میں ... »
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5471) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1471) ۔
علامہ بوصیری نے ’’اتحاف الخیرۃ‘‘ (3/134) میں طبرانی کے اضافے کے بارے میں فرمایا ہے: ’’یہ ایسی سند سے مروی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔‘‘


حدیث کی مختصر وضاحت


اس اُمت پر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ اُس نے اس کے لیے عبادت وطاعت کے ایسے عظیم مواقع مقرر فرمائے جن میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں اور گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ ان عظیم الشان مواقع میں سے ایک موقع شبِ قدر ہے جو عمر بھر کی راتوں میں سب سے بہتراور برکت میں سب سے زیادہ عظمت والی رات ہے۔
اس حدیثِ مبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ لیلۃ القدر ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے؛ پانچویں میں، یا تیسری میں ہے۔ ایک روایت میں اضافہ ہے: «یا ساتویں میں۔»
اس رات کو ’’قدر کی رات‘‘ اس لیے کہا گیا کہ یہ عظیم الشان اور بلند مرتبہ رات ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں پورے سال کے رزق، موت اور تقدیروں کے فیصلے فرماتا ہے۔ اس رات فرشتے خیر وبرکت اور رحمت لے کر زمین پر اُترتے ہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اس رات کی تلاش کی تلقین فرمایا کرتے تھے، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔» اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دس دنوں میں اعتکاف فرماتے، پھر درمیانی دس میں، پھر آخری دس میں، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح ہوگیا کہ لیلۃ القدر آخری دس دنوں میں ہے۔
علمائے کرام کا اس رات کی تعیین میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ اس بارے میں مختلف روایات مروی ہیں، چنانچہ کہا گیا ہے کہ وہ تئیسویں رات ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی موجود ہیں۔ بہت سے اہلِ علم کا موقف ہے کہ لیلۃ القدر ایک ہی متعین رات نہیں ہے، بلکہ آخری عشرے کی راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے، چنانچہ کسی سال یہ اکیسویں رات ہوسکتی ہے، دوسرے سال تئیسویں اور تیسرے سال ستائیسویں، وغیرہ۔
اس رات کو مخفی رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ مسلمان پورے آخری عشرے میں قیام میں خوب محنت کرے، تاکہ شبِ قدر کی برکت وفضیلت کو پالے اور اجر وثواب کا سب سے بڑا حصہ حاصل کرلے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔