«بے شک اللہ عزوجل عرفہ کی شام اہلِ عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے، چنانچہ وہ فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پرا گندہ حال اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 7089)، معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 8218) اور معجم صغیر طبرانی (حدیث نمبر 575) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1868) اور صحیح ترغیب وترہیب (حدیث نمبر 1153) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک عرفہ کا دن ہے۔ یہ ذوالحجہ کا نواں دن ہے۔ اس دن حجاجِ کرام ایک ہیبت انگیز میدان میں جمع ہوتے ہیں جہاں رحمت ومغفرت کے انوار برستے ہیں۔ یہ حج کا سب سے بڑا رکن ہے، چنانچہ اس کا کوئی حج نہیں جو عرفہ میں وقوف نہیں کرتا، جیساکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حج عرفہ (میں ٹھہرنے کا نام) ہے۔»
اس کی فضیلت اور عظمتِ شان کی ایک دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: «بے شک اللہ عزوجل عرفہ کی شام اہلِ عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے ... » تو اللہ سبحانہ اپنے فرشتوں کے سامنے ان بندوں کی فضیلت ظاہر کرتا ہے جو عرفات میں وقوف کیے ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیا چھوڑ کر، خشوع کرتے اور گڑگڑاتے ہوئے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف فرماتا اور اپنے معزز فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے جس سے مقصود ان کے ساتھ اپنی محبت اور رضامندی کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کے اخلاص کی سچائی، تذلل کی شدت اور اپنے سامنے ان کا انکسار دیکھ رہا ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قریب ہوتا ہے۔ یہ ایسا قرب ہے جو اللہ تعالیٰ کی جلالت کے لائق ہے۔ اس کی کیفیت کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی جانتا ہے۔ چنانچہ اس عظیم الشان دن میں اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ عرفہ کی شام اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ایمان، رحمت، نور اور برکت کا ایسا نزول فرماتا ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ روایت کے الفاظ «وہ اہلِ عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے، چنانچہ وہ فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پرا گندہ حال اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں۔» یعنی وہ اطراف واکناف سے میری پکار پر لبیک کہتے ہوئے، دنیا کی زینت اور سامان چھوڑ کر آئے ہیں۔
’’شُعث‘‘ لفظ اَشعث کی جمع ہے، یعنی ایسا شخص جس کے بال بکھرے ہوں اور اس نے انھیں نہ دھویا ہو اور نہ سنوارا ہو، بالکل احرام باندھنے والوں جیسی حالت۔
’’غُبر‘‘ لفظ اَغبر کی جمع ہے، یعنی وہ شخص جس پر غبارِ سفر نمایاں ہو، جیسے اللہ کی طرف راہِ اطاعت میں چلنے والوں کی حالت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ پراگندگی اور گرد وغبار بہت پسند ہے کیونکہ یہ اس کی رضاجوئی میں، اس کے حکم کی تعمیل، اِحرام کی پابندیوں سے بچنے اور دنیا کی ظاہری زیب وزینت ترک کرنے کے سبب ہوا۔
اس عظیم الشان دن میں مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے خوب دعائیں کرے اور خشوع وخضوع اور تضرع کا مظاہرہ کرے۔
حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع کی فضیلت اور حجاج کے بلند مرتبے کا بیان ہے۔
اسی طرح اس میں یومِ عرفہ کی فضلیت، وقوفِ عرفہ کی جلالتِ شان اور اس کے بلند مقام کا بیان ہے۔