«بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’’الریَّان‘‘ کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے، اُن کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ تو وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے۔ جب ان میں سے آخری شخص داخل ہوجائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور پھر کوئی اس میں سے داخل نہیں ہوگا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1896) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1152) میں مروی ہے۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہی سے سنن ترمذی (حدیث نمبر 765)، سنن نسائی (حدیث نمبر 2557) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1640) میں بایں الفاظ مروی ہے: «...اور جو اس (دروازے) سے داخل ہوگیا، کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4241) اور صحیح ترغیب وترہیب (حدیث نمبر 979) ۔
حدیث کی مختصر وضاحت
روزہ ایک عظیم عبادت ہے جس میں اخلاص اور صبر یکجا ہیں۔ یہ قرب حاصل کرنے والے جلیل القدر اعمال میں سے ہے جن کے ذریعے بندہ اپنے رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ اس کی فضیلت اور اجرِ عظیم کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جسے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’’الريان‘‘ کہا جاتا ہے ...»
تو یہ حدیث روزے کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ داروں کے بلند مقام پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت کا ایک خاص دروازہ مختص فرمایا ہے، باقیوں کو چھوڑ کر صرف انھیں اس دروازے سے بلایا جائے گا۔ یہ ’’باب الریان‘‘ ہے۔ ’’الریان‘‘ لفظ ’’ریّ‘‘ سے ماخوذ ہے جو پیاس کی ضد ہے۔ یہ شرف ومنزلت ان کے لیے اس بات کا بدلہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی خاطر پیاس برداشت کی۔ اس دروازے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ جو اس سے داخل ہوگا، وہ ہمیشہ سیراب رہے گا اور کبھی پیاسا نہ ہوگا، جیساکہ بعض روایات میں آیا ہے: «جو اس سے داخل ہوا، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔» یہ روزے کی مشقت اور تکلیف کے بعد نعمتوں کی تکمیل اور کامل آرام کی طرف اشارہ ہے۔ اس مبارک جماعت کو تمام مخلوقات کے سامنے عزت وتکریم کی پکار سے بلایا جائے گا کہ «روزہ دار کہاں ہیں؟» یعنی وہ لوگ کہاں ہیں جنھوں نے اطاعت پر صبر کیا اور اپنے رب کی خاطر شہوتوں کو چھوڑ دیا؟ تو وہ عزت کے ساتھ کھڑے ہوں گے، چنانچہ ایک دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے جس میں کوئی اور ان کے ساتھ شریک نہیں ہوگا، پھر دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ یہ سب ان کی خصوصیت اور بلند مرتبے کی تعظیم کے طور پر ہوگا۔
یہ دروازہ جنت کے اُن آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے جو اہلِ طاعت کے لیے کھولے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طاعت کے لیے ایک الگ دروازہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ روزہ داروں کے لیے باب الريان، اہلِ خشوع کے لیے باب الصلاة، اہلِ احسان کے لیے باب الصدقہ اور خرچ کرنے اور قربانی دینے والوں کے لیے باب الجہاد۔ تو یہ اللہ کی طرف سے کامل بدلہ اور انصاف ہے کہ باری تعالیٰ ہر بندے کو اس کی طاعت اور اخلاص کے مطابق عزت وتکریم دے گا۔
اس حدیث میں مخلص روزہ داروں کے لیے عظیم الشان خوشخبری ہے، اعمال کی ترازو میں روزے کی رفعتِ مقام کا ثبوت ہے اور ماہِ رمضان اور اس کے علاوہ نفلی روزوں پر ہمیشگی کی ترغیب ہے، تاکہ بندہ نعمتوں والی جنت میں باب الريان سے داخل ہونے والوں میں شامل ہوجائے۔