جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«چاند دیکھ کر تم روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر تم افطار کرو اور چاند کی رؤیت کے مطابق نسک (حج وقربانی کے اعمال) ادا کرو۔ پھر اگر چاند بادل ، دھند یا غبار کی وجہ سے مخفی ہوجائے تو مہینا تیس دن پورا کرو۔ اگر دو گواہ چاند دیکھنے کی شہادت دیں تو روزہ رکھو اور افطار کرو۔»


یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 18895) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2116) میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3811) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 909) ۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت چاند ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عبادات کے اوقات کی علامتیں بنایا ہے، جیسے: رمضان کا روزہ اور افطار، حج اور قربانی، کفارات اور نذریں وغیرہ۔
اس حدیث میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روزے اور افطار کے لیے چاند کی رؤیت پر عمل کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں، چنانچہ وہ تیس شعبان کی رات کا چاند دیکھ کر رمضان کا روزہ رکھتے تھے اور ماہِ شوال کے چاند کی رؤیت کے ثبوت کے بعد ہی افطار کرتے (روزہ رکھنا چھوڑتے) تھے۔
الفاظِ روایت «اور چاند کی رؤیت کے مطابق نسک ادا کرو» یعنی چاند کی رؤیت سے منسلک عبادات ادا کرو، جیسے: ذوالحجہ میں قربانی اور حج کی ادائیگی کیونکہ رؤیت کے ثبوت کے بعد ہی نسک مشروع ہوتی ہیں، اس لیے کہ چاند کی رؤیت مہینے کے شروع ہونے کی علامت ہے۔ پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اگر چاند بادل یا گرد وغبار وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دن مکمل کرنے واجب ہیں، خواہ یہ روزہ رکھنے کا معاملہ ہو یا افطار کرنے (نہ رکھنے) کا۔ یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت اور آسانی ہے کہ اس نے ان پر ایسا بوجھ نہیں ڈالا جس کی وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں۔
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیت ثابت کرنے کا طریقہ بیان کیا، چنانچہ فرمایا: «اگر دو گواہ چاند دیکھنے کی شہادت دیں تو روزہ رکھو اور افطار کرو۔» یعنی مہینے کا آغاز اور اختتام دو گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوگا اور ضروری ہے کہ وہ دونوں گواہ عادل ہوں کیونکہ سنت سے یہی ثابت ہے، اس لیے کہ فاسق شخص دینی خبریں نقل کرنے میں قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، چنانچہ عدل ہونے کی شرط حدیث کے مفہوم کو مکمل کرتی اور شعائر کی توثیق میں شریعت کے مقصود کو پورا کرتی ہے۔
حدیث مبارک رؤیت کے اثبات کے لیے دو گواہوں کی شرط عائد کرنے میں صریح اور بالکل واضح ہے، البتہ بعض اہلِ علم نے اسے ہلالِ شوال (یعنی عید) کی رؤیت کے لیے مخصوص قرار دیا ہے، جبکہ ہلالِ رمضان کے لیے ایک ہی گواہ کو کافی قرار دیا ہے۔ یہ موقف اس لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ اس حدیث اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں جمع وتطبیق ہو جائے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ «لوگ چاند دیکھنے کے لئے اکٹھا ہوئےتو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے کا حکم دیا۔» تو ماہِ رمضان کی ابتدا کے لیے ایک گواہی کافی ہے، جبکہ اس کا اختتام دو عادل گواہوں کے ساتھ ثابت ہوگا۔
چنانچہ یہ حدیث رؤیتِ ہلال کے ثبوت میں بنیادی اصول ہے اور مسلمانوں کی عبادات کو فلکی حسابات کی بجائے شرعی رؤیت پر قائم رکھنے کا اساسی ضابطہ ہے، تاکہ امت پر رحمت اور ان کے لیے آسانی ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔