«بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں۔ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں۔ بے شک تمام حمد اور ساری نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1549) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1184) میں مروی ہے۔
صحیح مسلم میں یہ اضافہ ہے: راویِ حدیث کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ کیا کرتے تھے: «میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیری اطاعت کے لیے تیار ہوں، ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھوں میں ہے، میں حاضر ہوں، تمام تر رغبت تیری ہی طرف ہے اور عمل (تیری ہی توفیق سے تیری ہی خوشنودی کے لیے) ہے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حج کے تمام مناسک قدم بہ قدم سکھائے۔ ان میں سے ایک اہم چیز احرام کے وقت تلبیہ ہے جو حاجی اور معتمر کا خاص شعار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے: حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں ...»
«لبیک» کے معنی ہیں: اللہ کی اطاعت اور اس کے حج کے بلانے پر باربار حاضری دینا۔ اس میں اللہ کے حکم کا امتثال اور فرماں برداری شامل ہے۔ اور «لا شریک لک لبیک» کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں اس کا کوئی شریک نہیں، چنانچہ وہی خالق ورازق اور کائنات کے تمام امور كى تدبیر کرنے والاہے۔ اسی طرح اس کی اُلوہیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں، چنانچہ اس کے سوا عبادت کا حق دار کوئی نہیں۔ اسی طرح اس کے اسماء وصفات میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں، چنانچہ اسے اپنے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ علیا میں کمالِ مطلق حاصل ہے۔ پس وہ اپنی ذات، اپنے افعال اور اپنی صفات میں یکتا ہے، شریک سے پاک کیونکہ مخلوق میں سے کوئی بھی اُس کی اجازت کے بغیر نفع ونقصان کا مالک نہیں۔ اور یہ معنی اہلِ جاہلیت کے طریقے کے خلاف ہیں کیونکہ ان کے تلبیہ میں شرک شامل تھا، چنانچہ وہ یہ اضافہ کرتے تھے: «سوائے اس شریک کے جو تیرا ہے، تُو ہی اس کا مالک ہے اور اُس چیز کا بھی جس کا وہ مالک ہے۔» پھر اسلام آیا تو اس نے تلبیہ کو شرک سے پاک کیا اور ہر قول وفعل میں اسے توحیدِ خالص کا اعلان بنا دیا۔
تلبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں توحید کی تینوں قسمیں سمو دی گئی ہیں:
توحیدِ اُلوہیت ان الفاظ میں: «حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں۔»
توحیدِ ربوبیت ان الفاظ میں: «بے شک تمام نعمتیں تیری ہیں اور تمام بادشاہت۔»
توحید اسماء وصفات ان الفاظ میں: «بے شک تمام حمد تیری ہے۔»
یہی وجہ ہے کہ تلبیہ حج میں شعارِ توحید ہے جس کے ذریعے حاجی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کرتا ہے، دنیا سے تجرد اور خلوت کا اعلان کرتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پکار پر لبیک کہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں سے ہر اُس شخص تک پہنچادیا ہے جس کے مقدر میں حج لکھا ہے۔