بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا: «مہینا اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کرلیا۔ «تو چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو۔ اگر تمھارا مطلع ابر آلود ہوجائے تو اس کے تیس دن پورے کرو۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 5302) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1080) میں مروی ہے۔ الفاظ صحيح مسلم کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ تعالیٰ نے نئے چاند کو بہت سی عظیم حکمتوں کے لیے پیدا فرمایا ہے، چنانچہ انھیں لوگوں اور عبادات کے لیے وقت کی نشانی بنایا، انھی سے مہینوں کے آغاز اور اختتام کا پتا چلتا ہے اور انھی سے روزے، حج اور دیگر عبادات کے اوقات مقرر ہوتے ہیں۔
اس حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قمری مہینے کا آغاز حسابِ فلکی سے نہیں ہوتا، بلکہ شرعی رؤیتِ ہلال سے ہوتا ہے۔ مہینا کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس کا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے تین مرتبہ اشارہ فرمایا؛ پہلا اشارہ دس دن کی طرف، دوسرا اِشارہ بیس دن کی طرف، تیسرا اِشارہ تیس دن کی طرف اور پھر تیسری بار میں انگوٹھا موڑ کر واضح کر دیا کہ مہینا کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا: «چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔» چنانچہ جب اُنھیں یہ بیان کر دیا کہ مہینا کبھی پورا ہوتا ہے اور کبھی ناقص تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی تاکید فرمائی کہ روزوں کی ابتدا اور اختتام شرعی رؤیتِ ہلال پر موقوف ہے اور افطار صرف شوال کے چاند کی رؤیت ثابت ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔
پھر مزید وضاحت فرمائی کہ اگر شعبان کی تیسویں شب دھند، گرد وغبار یا کسی اور رکاوٹ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو وہ ماہِ شعبان کی گنتی تیس تک مکمل کریں۔ یہی معنی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے: «اگر تمھارا مطلع ابرآلود ہو تو مہینے کے تیس دن پورے کرو۔» یعنی یہاں ’’تقدیر‘‘ سے مراد تکمیل اور اتمام ہے، یعنی مہینے کی گنتی تیس دن تک پوری کرو اور فلکیاتی اندازہ یا ظن وتخمین نہ لگاؤ کیونکہ شریعت نے حکم کو آنکھوں سے دیکھی جانے والی علامت، یعنی چاند کی رؤیت سے جوڑا ہے، نہ کہ فلکیاتی حساب کتاب سے منسلک کیا ہے۔
چنانچہ یہ حدیث رؤیتِ ہلال کے باب میں بنیاد واساس ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شرعی احکام ظاہری اور واضح علامات پر مبنی ہیں جنھیں عوام الناس دیکھ سکتے ہیں، نہ کہ فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں جن سے اکثر لوگ بے خبر ہوتے ہیں۔ اس میں امت کے لیے اللہ کی رحمت بھی ہے اور آسانی کا مظہر بھی۔