بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جو شخص ماہِ رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر کا قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 2014) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 760) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ نے اس اُمت پر بے شمار احسان فرمائے ہیں اور نیکیوں کے حصول اور گناہوں کی معافی کے لیے اس کے سامنے وسیع دروازے کھول دیے ہیں۔ انھی عظیم نعمتوں میں سے ایک وہ فضیلت ہے جو اس حدیث شریف میں بیان ہوئی ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے لیے رمضان کے روزے رکھنے اور شبِ قدر کے قیام کی بے پایاں فضیلت بیان فرمائی ہے جو نیت خالص اور ایمان سچا رکھتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ایمان» کے معنی یہ ہیں کہ روزے کی فرضیت کی تصدیق کرے اور اس بات کا اقرار کرے کہ روزہ ایسی عبادت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر ومشروع فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں روزہ رکھنے والا اس کی فضیلت اور بڑے اجر سے بھی آگاہ ہو، چنانچہ وہ روزہ محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں رکھے، نہ کہ محض عادتاً اور نہ دکھاوے کے طور پر۔
فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم «احتسابا» سے مراد یہ ہے کہ بندہ پورے دل کے سکون کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے اجر وثواب کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھے۔ وہ روزے کے دنوں کو بوجھ نہ سمجھے، نہ اس پر تنگ ہو، بلکہ اسے اپنے رب کے قرب، اس کی مغفرت اور اس کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ جانے۔
تو جس شخص کی ایسی حالت ہو تو اس کے لیے عظیم الشان بدلے کا وعدہ ہے جس کی بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان سے دی ہے: «اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔»
یہاں ’’مغفرت‘‘ سے مراد اکثر اہلِ علم کے نزدیک کبیرہ کی بجائے صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ ایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «پانچوں نمازیں، ایک جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک، درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔» تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کبیرہ گناہوں سے بچنا حصولِ مغفرت کے اس وعدے کوپانے کی شرط ہے۔ اگرچہ بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ مغفرت کبیرہ گناہوں پر بھی مشتمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل بہت وسیع ہے۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص شبِ قدر میں ایمان اور نیکی کی اُمید کے ساتھ قیام کرے، اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔» یعنی جو شخص اس رات نماز، ذکر، دعا، استغفار اور دیگر عبادات کے ذریعے اس رات کی فضیلت پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ سے اس کا اجر طلب کرتے ہوئے قیام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، جیساکہ پہلے گزرچکا ہے۔
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی رحمت وکرم کی وسعت پر روشن دلیل ہے کہ محض خالص نیت سے رکھا گیا روزہ اور اخلاص کے ساتھ کیا گیا قیام ماضی کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ یہ حدیث بندے کو نیکی کے موسموں کو غنیمت جاننے، اللہ کی طرف خشوع اور اخلاص کے ساتھ رجوع کرنے اور عمل کی اصلاح کی ترغیب دیتی ہے۔
اسی طرح حدیث مبارک میں یہ واضح بیان بھی ہے کہ اعمالِ صالحہ تبھی پاکیزہ بنتے اور قبول کیے جاتے ہیں جب ان کے ساتھ اخلاصِ نیت اور ثواب کی امید ملے کیونکہ اخلاص ہی ہر عمل کی روح ہے، اسی سے اعمال بلند ہوتے ہیں اور اجر وثواب کئی گنا بڑھادیا جاتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔